30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المیت۔ |
تو وہ مانع نہیں ہوتا۔(ت) |
وہ ترکہ سے اپناحصہ لے اورباقی وارث اس سے نصف مہرلیں اگرنہ دے دعوٰی کرلیں فان الدین قدحل بالموت(کیونکہ موت کے سبب سے قرض کی ادائےگی کاوقت آپہنچاہے۔ت)یہ خیال کہ اس پرمہرکثیراورجائداد قلیل اگرترکہ سے حصہ دے دیاجائے گاشاید کسی کے نام منتقل کردے اور مہرماراجائے ہرگز اسے ترکہ ملنے سے مانع نہ ہوگا نہ یہ روکناکچھ مفید کہ وہ بلاتقسیم بھی بیع کرسکتاہے جوقطعًا نافذ ہوگی کہ یہ حجربالدین امام کے نزدیك مطلقًا اور بے حکم قاضی اجماعًا جائزنہیں۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
|
ثم لاخلاف عندھما ان الحجر بسبب الدین لا یثبت الابقضاء القاضی[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
پھرصاحبین کے نزدیك اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرض کی وجہ سے پابندی قضاء قاضی کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۲: ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك مردمذہب اہلسنت وجماعت نے عورت مذہب شیعہ تبرائی سے حسب طریقہ رفاض صیغہ پڑھایا اوراپنی زوجیت میں لایا وہ عورت زوجہ شرعی ہوسکتی ہے یانہیں اورترکہ اس مرد کی مستحق ہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا(بیان کیجئے اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
وہ ہرگز زوجہ شرعیہ نہیں،نہ اصلًا ترکہ کی مستحق۔رافضی تبرّائی ہمارے فقہاء کرام اصحاب فتاوٰی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے نزدیك مطلقًا کافر ہے،عامہ کتب فتاوٰی میں اس مسئلہ کی جابجا تصریح ہے اور فقہائے ممدوحین کے نزدیك ان کا کفر بوجوہ کثیرہ ثابت:
اوّلًا:خود یہی تبرائے ملعون والعیاذباﷲ تعالٰی فقہاء کرام فرماتے ہیں حضرات شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی شان میں ان کلمات ملعون کابَکنے والاکافرہے۔فتاوٰی عالمگیری میں فتاوٰی خلاصہ سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع