30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من المورث لایمکن ان یحسب من الارث وسببہ ھی الوصلۃ المعلومۃ وھم فیھا سواء پس دریں صورت کل زمین معافی ونیمہ ایں اموال کہ درآنہا شرکت ہردوبرادر ست برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث مثل اداء مہر ہرسہ زوجہ و دیگر دیون وانفاذ وصایا بریك صد وہفتاد وشش سہام انقسام یافتہ یازدہ سہم بہر زن موجودہ وبست وہشت بہرپسر و چاردہ بہردختر رسد وبرادررادرترکہ زید حظے نیست واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔ |
اس کو میراث میں سے شمار کرناممکن نہیں اور اس کا سبب وہی ملاپ اورتعلق ہے جو معلوم ہے اور وہ سارے اس میں برابر ہیں،چنانچہ اس صورت میں الاٹ شدہ تمام زمین اور دونوں بھائیوں کے درمیان مشترکہ اموال میں سے نصف اس تقدیر پرکہ میراث کے موانع میں سے کوئی موجود نہ ہو اور زید کے ورثاء صرف یہی مذکورہ افراد ہوں اور جن امور کو میراث سے مقدم کرنا لازم ہے مثلًا تینوں بیویوں کامہر، دیگرقرضوں کی ادائیگی اور وصیتوں کے نفاذکے بعد جومال بچے اس کے ایك سو چھہتر حصے کرکے گیارہ گیارہ حصے ہرموجودہ بیوی کو اٹھائیس۲۸ حصے ہربیٹے کو اور چودہ حصے ہربیٹی کو پہنچیں گے بھائی کے لئے زید کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں۔اﷲ سبحانہ،وتعالٰی درستگی کوخوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۱ : ۸ربیع الاول ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مہرمسماۃ ریاست النساء مرحومہ کاذمہ احمدشاہ خاں شوہر کے واجب الادا ہے اور ترکہ مسماۃ سے نصف حصہ اس کے شوہر کا ہے مہر بتعداد پانچ ہزار(۵۰۰۰)روپیہ ہے اور ترکہ بمقدار قلیل مسماۃ کی والدہ اور بھائی دعویدار مہرہیں۔اس صورت میں ترکہ اس کے شوہر کوملے گا یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بیشك ملے گا،
|
فان الدین المحیط علی المیت تمنع تقسیم الترکۃ بین الورثۃ لادین |
اس لئے کہ ترکہ کا احاطہ کرنے والا قرض اگرمیت پرہوتو وہ ورثاء میں ترکہ کی تقسیم سے مانع ہوتا اوراگرمیت کاقرض دوسروں پرہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع