30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
زمینے کہ تنہا بنام زیدمعاف شدخاص ملك اوست برادر دیگر را دران استحقاقے نیست فان الاقطاع انما یکون لمن اقطع لہ کما ان الموھوب لایملکہ الا من وھب لہ ودرآبادی وتیاری چاہ صرف زرمشترك مستلزم ملك برادر درعین زمین نیست کما لا یخفٰی اما آنچہ بحالت اتحاد ویکجائی بزور بازوئے خود پیدا کردند اگرہردوبکسب واحد بروجہ شرکت اشتغال میداشتند گویکے عمل بیش می کرد ودیگرے کم یا آنچہ بہ مکاسب جداگانہ خود ہا می اند وختند خلط می کردند ویك جا صرف می نمودند کہ درملك ہر دو تفاوت معلوم نیست پس ہمہ آنچہ بہم حاصل کردہ اند نصفًا نصف علی السویہ ملك ہردوبرادرباشد فی الفتاوی الخیریۃ سئل فی اخوین سعیھما واحد وعائلتھما واحدۃ حصلا بسعیھما اموالا من مواش وغیرھا فھل جمیع ماحصلاہ بسعیھما و کسبھما مشترك بینھما تجب |
جو زمین اورزید کے نام الاٹ ہوئی وہ خاص اسی کی ملکیت ہے۔دوسرے بھائی کا اس میں کوئی حق نہیں،اس لئے کہ زمین کے قطعات اس کے لئے ہوتے ہیں جس کے لئے الاٹ کئے جائیں۔جیسا کہ موہوب کامالك سوائے اس کے کوئی نہیں ہوتا جس کے لئے ہبہ کیاگیا اورزمین کی آبادی اورکنویں کی تیاری میں مشترکہ مال کاخرچ ہوناعین زمین میں بھائی کی ملکیت کامقتضی نہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیں،لیکن جو کچھ انہوں نے اتحاد واتفاق کی حالت میں اپنے زوربازو کے ساتھ کمایا اگردونوں ایك ہی کسب میں بطور شرکت مشغولیت رکھتے تھے اگرچہ ایك کام زیادہ کرتاہو اوردوسراکم یاوہ الگ الگ کسب کرکے جوکچھ جمع کرتے اس کو اکٹھا کرلیتے اور اکٹھا خرچ کرلیتے اس طور پر کہ دونوں کی ملکیت میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا پس جو کچھ انہوں نے حاصل کیاہے وہ ان دونوں بھائیوں میں مساوی طورپرنصف نصف ہوگا۔فتاوٰی خیریہ میں ہے دوبھائیوں کے بارے میں سوال کیاگیاجن کا کاروبار ایك ہے اور ان دونوں کاکنبہ بھی ایك ہے ان دونوں نے اپنی محنت سے مویشی وغیرہ کی صورت میں کچھ مال جمع کیا،تو کیا جو کچھ انہوں نے اپنی محنت اور کسب سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع