30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۰: ازاوجین علاقہ گوالیار مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمدیعقوب علی خاں ۲۰صفر۱۳۰۸ھ
|
چہ فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ زید بابرادر خرد حقیقی شریك حال بودہ مکان وزیور ونقدوظروف واشیائے خانہ داری تعدادی تخمینا پانزدہ صد روپیہ ہردوبشرکت بزور بازوئے خودفراہم کردند ودر خوردونوش معیشت ہیچ امتیازے نداشتند وعلاوہ اموال مذکورہ صدبیگھہ زمین ازسرکار خاص بنام زیدمعاف شد الادرستی وآبادی زمین مزبورہ وتیاری چاہ بزر مشترك شد وآمدنی سالیانہ بشرکت صرف می نورحالا زید زوجہ ثانیہ لاولد و زوجہ ثالثہ ویك پسروسہ دخترازبطن زوجہ اولٰی کہ پیش از زید مردہ بود وشادی اینہا زیدبحیات خودش کرد وسہ پسراز بطن زوجہ ثالثہ کہ ہرسہ بحیات زید ناکتخدا ماندند وہمیں یك برادر وارث گزاشتہ وفات یافت پس ترکہ زید چسان انقسام یابد وزمینے کہ تنہا بنام زید معاف ست دراں برادر دیگر را ہم حصہ است یاخیرودر اولاد زوجہ اولٰی و ثالثہ بوجہ کتخدا زدن بحیات زیدازرف زیدوناکتخذا ماندن فرقے در ارث خواہد بود یانے۔بیّنواتوجروا۔ |
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے چھوٹے حقیقی بھائی کے ساتھ تھا اور دونوں نے شراکت میں اپنے زوربازو سے مکان،زیور،نقدی،برتن اورخانہ داری کی دیگراشیاء جن کی مالیت تقریبًا پندرہ سو روپے ہے جمع کیں اورکھانے پینے میں وہ دونوں آپس میں کوئی فرق نہیں رکھتے،احوال مذکورہ کے علاوہ سوبیگھہ زمین حکومت نے خاص زید کے نام الاٹ کی مگرمذکورہ زمین کی آبادی اورکنویں کی تیاری مشترکہ طور پرصَرف ہوتی رہی،اب زید مرگیا اور اس نے اپنی دوسری بیوی بے اولاد چھوڑی اورپہلی بیوی جو زید سے پہلے مرگئی سے ایك بیٹا اور تین بیٹیاں چھوڑیں جن کی شادی زید نے اپنی زندگی میں کردی،اور تیسری بیوی چھوڑی جس سے زید کے تین بیٹے ہیں جو زید کی زندگی میں کنوارے رہے اور ایك یہ بھائی چھوڑاہے،توا ب زید کاترکہ کیسے تقسیم ہوگا اور جو زمین تنہا زید کے نام پرالاٹ ہوئی اس میں دوسرے بھائی کابھی حصہ ہے یانہیں؟ اور اس کی پہلی اور تیسری بیویوں کی اولاد میں اس وجہ سے کوئی فرق ہوگا یانہیں کہ پہلی بیوی کی اولاد زید کی زندگی میں زید کے خرچ سے شادی شدہ ہوئی جبکہ تیسری بیوی کی اولاد کنواری رہی۔بیان کرواجردئیے جاؤگے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع