30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تقسیم ہوناچاہئے اور کون کون ذی حق جائداد مذکور میں ہوسکتا ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب:
تحریرات مجتہد لکھنؤ وتجربہ خواص وعوام شیعہ سے ثابت کہ اس زمانے کے شیعہ ضروریات دین کے منکرہیں توہرگز نہ ان سے مناکحت جائز،نہ وہ نکاح شرعًا نکاح،نہ وہ اہلسنت کا ترکہ پاسکیں،نہ اہل سنت کو ان کامورث کہہ سکیں۔عالمگیری میں ہے:
|
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبقولھم فی خروج امام باطن(الٰی من قال) وھٰؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذا فی الظھیریۃ[1]۔ |
رافضیوں کوکافر قرار دیناواجب ہے ان کے اس قول کی وجہ سے کہ مردے دنیا کی طرف لوٹ آتے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ امام باطن کاظہورہوناہے(یہاں تك کہ کہا)اور یہ قوم ملت اسلام سے خارج ہے اور ان کے احکام مرتدوں جیسے ہیں۔یونہی ظہیریہ میں ہے(ت) |
اسی میں ہے:
|
اختلاف الدین ایضا یمنع الارث[2]۔ |
دین کا اختلاف بھی میراث سے مانع ہے(ت) |
پس کل ترکہ زید برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وعدم وارث اُخروتقدیم یایقدم کالدین والوصیۃ،صرف اس کی دختر سنیہ کو ملے گا۔اور یہ مدخولہ اورچچازاد بھائی کہ شیعہ ہیں کچھ نہ پائیں گے نہ خالہ زاد بھائی بھانجوں نواسے داماد کاکوئی حق ہے ہاں اگر یہ مدخولہ یاچچازاد بھائی دونوں کسی ضروری دین کا انکار نہ کرتے ہوں تو بشرائط مذکورہ ترکہ آٹھ سہم پرمنقسم ہوگا ایك زوجہ اور چاردختر اورتین ابن العم کو ملیں گے اور صرف ابن العم منکرنہ ہو تو دوحصہ ہوکر دختر وابن العم کو نصفانصف پہنچے گا زوجہ کچھ نہ پائے گی،اور صرف زوجہ منکرنہ ہوتو آٹھ پرتقسیم ہوکرایك سہم زوجہ اورسات دختر کو پہنچیں گے ابن العم محروم رہے گا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع