30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پس اس صورت میں جو رضامندی اور اجازت زوجہ زید سے نہیں لی گئی مال لڑکے کے نام قائم کرنا اوربرادرحقیقی زید کے سپرد کرنا جائزہے یانہیں؟ اور مال زید کے سہام پر تقسیم ہوگا؟ بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
مال جہیزتو خاص ملك زوجہ زید ہے نہ وہ زید کا ترکہ نہ زید کے کسی وارث کا اس میں کوئی حق۔ردالمحتار میں ہے:
|
کل احد یعلم ان الجہاز ملك المرأۃ لاحق لاحد فیہ[1]۔ |
ہرایك جانتاہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔(ت) |
اورمتروکہ زید برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث مثل ادائے مہر ودیگر دیون و تنفیذوصایا،چوبیس سہام پر منقسم ہوکرتین سہم زوجہ اورچار والدہ اور سترہ پسر کو ملیں گے تو متروکہ زید میں بھی چوبیس سہام سے سترہ کا استحقاق پسر کو تھا کل ترکہ زید بنام پسر زید کردینا ظلم وجہالت ہے اور اس کے ساتھ زوجہ زید کا جہیزبھی ملادینا اور ظلم برظلم اورنانا یا اہل برادری کی رضامندی کوئی چیزنہیں کہ وہ غیرمالك ہیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اے ایمان والوآپس میں ایك دوسرے کامال ناحق نہ کھاؤ(ت) |
پس کل مال لرکے کے نام قائم کرنا اور برادرزید کی سپردگی میں دیناسب بیہودہ و باطل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹: ماہ صفر۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مذہب اہل تسنن پرفوت ہوا اور اس نے ایك دختر سنی زوجہ اولٰی متوفیہ کے بطن سے اور ایك زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ اور ایك برادر خالہ زاد کہ زید کا بہنوئی ہے اور دوبھانجی حقیقی مذہب سنی اورایك بھائی چچا زاد شیعہ اور ایك نواسہ شیعہ اورداماد شیعہ یعنی باپ اس نواسہ کاکہ جس کی ماں حیات میں زید متوفی کی مرگئی تھی وارث چھوڑے جائداد مقبوضہ مملوکہ زیدمتوفی جمیع ورثہ پر ازروئے فرائض کس طرح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع