30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

کما یظہر بالمناسخۃ(جیسا کہ سے ظاہرہوتاہے۔ت)
اورثلث سوم خاص بکرکاہے اور اگرساری جائداد ملاکر دفعۃً تقسیم کرلینا چاہیں تو بہت اختصار ہوجائے گا کل جائداد کے ایك سو چوالیس حصے کرکے اس طرح تقسیم کریں ہرایك اپنے تمام حقوق کو پہنچ جائے گا:

یہ اختصار قابل امتحان طلبہ ہے کہ کیونکر ان سہام میں بکرکاثلث الگ ہوکر دونوں ترکے پورے پورے تقسیم ہوگئے من دون ان یمکن فرض باطل کجعل المورث الاعلی واحدا اولیستعان بقاعدۃ فوق التقسیم المفرد علٰی ضوابطہا المقررۃ عند الحساب(بغیر اس کے کہ کسی باطل کو فرض کیاجائے مثلًا صورت اعلٰی کو ایك قراردیاجائے یاتقسیم مفرد کے اوپروالے قاعدے سے ان ضوابط کے مطابق مدد لی جائے جو حساب میں طے شدہ ہیں۔ت)مگریہ جبھی ممکن کہ وقت تقسیم تینوں بھائی جائداد میں بحصہ مساوی شریك ہوں عام ازیں کہ اول ہی سے برابرتھے اور زیدوعمرو کے ترکہ پر دین وصیت کچھ نہ تھا یاتھا اور اس جائداد کے غیر سے اداکردیاگیا یا اول سے مختلف تھے اوردیون ووصایائے زیدوعمرو اس ترکہ سے اداہوکر اب تینوں حصے برابرآگئے اوراگروقت تقسیم کمی بیشی ہے خواہ ابتداء سے تھی یا اب بوجہ ادائے دین ووصیت ہوگئی توتقسیم کی وہی پہلی صورت رہے گی کہ ہرایك کا جدا بٹے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸: ۱۲ذی الحجہ ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید لڑکا بعمر ڈھائی برس اور زوجہ اوروالدہ اپنی اوربرادرحقیقی چھوڑکرفوت ہوگیا بعدہ،بلااجازت زوجہ زید کے چچازیدمتوفی نے مال متروکہ زید ونیزمال جہیزی زوجہ زید کا پسرزید کے نام کرکے تابلوغ پسر مذکور سپردبرادرحقیقی زید کے کردیا وقت سپردگی مال مذکور کے نانا لڑکے اور نیز اہل برادری نے سپردگی مال میں رضامندی ظاہرکی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع