30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو ملیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷: ۸ ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جائداد کے مالك زیدوعمرو وبکر سہ برادران حقیقی تھے،اول زید فوت ہوا،خالد و عمدہ والدین چھوڑے۔پھر عمدہ نے عمروبکر پسر ہندہ سعیدہ دختر خالدشوہر چھوڑے پھرخالد نے وارثان مذکور سے انتقال کیا پھر عمرو نے زوجہ خدیجہ چھوڑ کر لاولد وفات پائی پھرہندہ شوہر عبداﷲ پسرحامد محموددختر فاطمہ چھوڑ کر مرگئی،ترکہ کیونکر منقسم ہوگا؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم مایقدم کالمہروالدین والوصیۃ ایك ثلث جائداد کہ حصہ زید ہے نوسوساٹھ ۹۶۰سہام پرمنقسم ہوکرورثہ احیاء پر جس حساب سے بٹ جائے۔

|
وذٰلك لان التصحیح یبلغ الفین وثمان مائۃ و ثمانین ۲۸۸۰ وکأن ینقسم ھٰکذا۔ |
اور یہ اس لئے ہے کہ تصحیح دو ہزار آٹھ سو اسی ۲۸۸۰ تك پہنچتی ہے گویا اس طرح تقسیم ہوتی ہے۔(ت) |

|
کما یظھر بالتخریج فوجدنا فی السھام کلھا موافقہ بالثلث فرددنا المسئلۃ للاختصار الٰی ماترٰی۔ |
جیسا کہ تخریج سے ظاہرہوتاہے،پس ہم نے تمام حصوں میں تہائی کاتوافق پایا تو ہم نے مسئلہ کواختصار کے لئے تہائی کی طرف لوٹادیا جیسا کہ تو دیکھ رہاہے۔(ت) |
اورثلث دوم کہ حصہ عمروہے تین سو برس سہام پر انقسام پاکریوں ہروارث کوملے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع