30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی الزبدۃ الباسطیۃ [1]بدانکہ اگرورثہ میت ثانی عین ورثہ میت اول باشند ونیزقسمت تغیر نباید بجہت آنکہ ازیك جنس بودند پس بنابراختصار میت ثانی راکالعدم شمارکردہ برتصحیح واحد اکتفا نمایند۔وفی مختصر الفرائض اعلم ان ورثۃ المیت الثانی ان کانواھم الوارثین للمیت الاول سوی المیت الثانی ولایتغیر التقسیم بموتہ تقسم الترکۃ علی الورثۃ الباقیۃ تقسیما واحدا ویجعل المیت الثانی کأن لم یکن فی البین مثلًا ترك واربعۃ ابناء و ثلاث بنات کلھم من زوجۃ واحدۃ ثم مات ابن واحد قبل القسمۃ وترك ثلثۃ اخوۃ وثلث اخوات لاب وام ثم ماتت اخت وترکت ثلٰثۃ اخوۃ واختین کانت المسئلۃ من الثمانیۃ لکل من الابناء الثلثۃ اثنان ولکل من البنتین واحد ویجعل الابن والبنت کأن لم یکونا فی البین[2] انتھت معھذا مطمح نظر علمائے |
میں ہے:توجان لے کہ اگرمیت ثانی کے ورثاء میت اول کے ورثاء کاعین ہوں اورتقسیم میں بھی کوئی تبدیلی نہ آتی ہو اس لحاظ سے کہ وہ ایك ہی جنس سے تعلق رکھتے ہوں تواختصار کی بنیاد پرمیت ثانی کوکالعدم شمارکرتے ہوئے ایك ہی تصحیح پر اکتفاء کرتے ہیں۔مختصرالفرائض میں ہے:توجان لے کہ میت ثانی کے ورثاء اگر وہی ہوں جو بیت اول کے وارث بنتے ہیں سوائے میت ثانی کے۔اور میت ثانی کی موت کی وجہ سے تقسیم میں کوئی تبدیلی نہ آتی ہو تو اس صورت میں ترکہ کو ایك ہی تقسیم کے ساتھ باقی وارثوں پر تقسیم کیاجائے گا اور میت ثانی کو درمیان سے کالعدم قرار دے دیاجائے گا مثلًا کوئی شخص چاربیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑکرمرگیا جو کہ تمام ایك ہی بیوی سے ہیں پھر تقسیم سے پہلے ایك بیٹا مرگیا جس نے تین حقیقی بھائی اور دوبہنیں چھوڑی ہیں تو مسئلہ آٹھ سے بنے گا تین بیٹیوں میں سے ہرایك کودو۲ دو۲حصے ملیں گے اور دوبیٹیوں میں سے ہرایك کو ایك ایك حصہ ملے گا۔اور مرجانے والے بیٹے اوربیٹی کو ایساسمجھاجائے گا گویا کہ وہ درمیان میں تھے ہی نہیں انتہت،اس کے باوجود ہمیشہ علماء فرائض کامطمح نظرسہام کوکم کرنا اور حساب کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع