30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذٰلك فکانّ المیّت الثانی لم یکن فی البین [1]،وفی الدر المختار(مات بعض الورثۃ قبل القسمۃ للترکۃ صحت المسئلۃ الاولٰی)واعطیت سھام کل وارث(ثم الثانیۃ) الا اذا اتحد کأن مات عن عشرۃ بنین ثم مات احدھم عنھم[2]،وفی الفتاوی الھندیۃ ان کانت ورثۃ المیت الثانی ھم ورثۃ المیت الاول ولاتغیر فی القسمۃ تقسم قسمۃ واحدۃ لانہ لافائدۃ فی تکرار القسمۃ[3]، فی مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق(ان مات البعض قبل القسمۃ فصحح مسئلۃ المیت الاول و اعطی سہام کل وارث ثم صحح مسئلۃ المیت الثانی) ھذا اذا کانت ورثۃ یرثون خلاف مایرثون من المیت الاول اما اذا کانوا یرثونہ بعینھم فلاحاجۃ الی التصحیحین کمالومات عن عشرہ ابناء ثم مات احد البنین ولم یترك وارثا سواھم کذا فی الزاھدی |
گویا کہ میت ثانی درمیان میں تھا ہی نہیں،درمختار میں ہے ترکہ کی تقسیم سے پہلے وارثوں میں سے کوئی مرگیا تو پہلے مسئلہ کی تصحیح کرکے ہروارث کے حصے دئیے جائیں گے پھر دوسرے مسئلہ کی تصحیح کی جائے گی سوائے اس کے کہ دونوں مسئلے متحد ہوں،جیسے کوئی شخص دس۱۰ بیٹے چھوڑ کر مرگیا پھر ان میں سے ایك باقی نوبھائی چھوڑ کر مرگیا۔فتاوٰی ہندیہ میں ہے اگرمیت ثانی کے ورثاء وہی ہوں جو میت اول کے ورثاء ہیں اور تقسیم میں کوئی تبدیلی نہ آتی ہو تو ایك ہی تقسیم کی جائے گی کیونکہ تقسیم کی تکرار میں کوئی فائدہ نہیں۔مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے اگروارثوں میں سے کوئی ترکہ کی تقسیم سے پہلے مرگیا تو پہلے میت اول کے مسئلہ کی تصحیح کرکے ہروارث کو حصے دئے جائیں گے پھر مسئلہ ثانی کے مسئلہ کی تصحیح کی جائے گی،یہ اس وقت ہوگا جب میت ثانی کے ورثاء میت اول کے ورثاء سے مختلف ہوں۔لیکن اگرمیت ثانی کے ورثاء بعینہٖ میت اول کے ورثاء ہوں تو پھر دوتصحیحوں کی کوئی ضرورت نہیں جیسے کوئی شخص دس بیٹے چھوڑ کر فوت ہوا پھر بیٹوں میں سے ایك مرگیا اور اس نے سوائے اپنے مذکورہ نو بھائیوں کے کوئی وارث نہیں چھوڑا۔یونہی زاہدی اور زبدہ باسطیہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع