30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعلٰی ھٰذا القیاس درجمیع مراتب[1]وفی زبدۃ الفرائض مولاناعبدالباسط القنوجی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ درمافوق العشرۃ بجزء وے کہ مضاف بسوئے عاد باشد تعبیرکنند پس دراحد عشربجزوے ازاحدعشر واثنی عشر بجزوے ازاثنی عشر وھکذا تا غیرنہایت[2]۔ |
چھتیس کی صورت میں توافق چوبیسویں اور چھتیسویں حصہ میں ہوگا،اوراسی پرقیاس ہوگا تمام مراتب میں۔اور مولانا عبدالباسط قنوجی رحمہ اﷲ تعالٰی کی تصنیف زبدۃ الفرائض میں ہے کہ دس سے زائد عددوں میں اس عدد کی ایسی جزء کے ساتھ تعبیرکرتے ہیں جو جزء عددمفنی کی طرف مضاف ہوتی ہے چنانچہ گیارہ میں اس کی گیارہویں جزء اور بارہ میں اس کی بارہویں جزء،اسی تك غیرنہایت تک۔(ت) |
اور جب انتقال بعض ورثہ قبل ازتقسیم کیفیت مذکورہ سے ہوتو انہیں خارج من البین وکان لم یکن کرنا ھی اولٰی ہے نہ اقامت بطون وافراز تصحیحات۔
|
فی الفرائض الشریفیۃ(لوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ)فنقول ان کانت ورثۃ المیت الثانی من عداہ من ورثۃ المیت الاول ولم یقع فی القسمۃ تغییر فانہ یقسم المال حینئذ قسمۃ واحدۃ اذلافائدۃ فی تکرارھا کما اذا ترك بنین وبنات من امرأۃ واحدۃ ثم مات احدی البنات ولاوارث لہا سوی تلك الاخوۃ والاخوات لاب وام فانہ یقسم مجموع الترکۃ بین الباقین للذکر مثل حظ الانثیین قسمۃ واحدۃ واحدۃ کماکانت تقسم بین الجمیع |
فرائض شریفیہ میں ہے(اگربعض حصے تقسیم سے پہلے میراث ہوجائیں)تو ہم کہتے ہیں کہ اگرمیت ثانی کے ورثاء سوائے میت ثانی کے وہی ہین جو میت اول کے ورثاء ہیں اورتقسیم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو اس صورت میں مال کو ایك تقسیم کے ساتھ بانٹ دیاجائے گا کیونکہ تقسیم کی تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔جیسے کسی شخص نے ایك ہی بیوی سے کچھ بیٹے اور کچھ بیٹیاں چھوڑی ہوں پھرایك بیٹی مرگئی جس کا ان حقیقی بہن بھائیوں کے سوا کوئی وارث نہیں تو اس صورت میں تمام ترکہ باقی بیٹوں اوربیٹیوں میں ایك ہی تقسیم کے ساتھ للذکرمثل حظ الانثیین کے مطابق اسی طرح تقسیم کریں گے جیسا کہ ان تمام بیٹوں اوربیٹیوں میں تقسیم ہوتاتھا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع