30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من خمسۃ عشر وان شئت نسبت الواحد الیہ بکسرین یضاف احدھما الی الاٰخر فتقول بینھما موافقۃ ثلث خمس اوخمس ثلث فیعبر عنہ بالجزء و بالکسور المنطقۃ المضافۃ بخلاف غیرالمرکب فانہ لایعبر عنہ الا بالجزء [1]۔وفی الفتاوی العالمگیریۃ ان کان الجزء المفنی للعددین اکثر من عشرۃ فانظر فان کان المفنی فردا او لا وھوالذی لیس لہ جزء صحیح ای لایترکب من ضرب عدد فی عدد کأحد عشر فقل الموافقۃ بینھما بجزء من احد عشر لانہ لایمکن التعبیر عنہ صحیحا بشیئ اٰخر وان کان العدد المفنی زوجا کالثمانیۃ عشرا وفردا مرکبا و ھوالذی لہ جزء ان صحیحان اواکثر کخمسۃ عشر، فان شئت ان تقول کما قلت فی الفرد الاول |
ایك جزء کے ساتھ ہے اور اگرتوچاہے تو واحد کی پندرہ کی طرف ایسی دوکسروں کے ساتھ نسبت کرے جن میں سے ایك دوسرے کی طرف مضاف ہوتی ہے،اور تویوں کہے ان دونوں کے درمیان موافقت پانچویں کے تہائی کے ساتھ ہے یاتہائی کے پانچویں کے ساتھ۔چنانچہ اس کو جزء کے ساتھ اور کسور منطقہ جوکہ ایك دوسرے کی طرف مضاف ہوتی ہیں کے ساتھ تعبیر کیاجاتاہے بخلاف غیرمرکب کے کہ اس کو سوائے جزء کے تعبیرنہیں کیاجاسکتا۔اورفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے: اگردوعددوں کو فناکرنے والا عدد دس سے زائد ہو توپھر نظرکر اگر وہ عدد فرد مفرد ہو،اور فردمفرد وہ ہے جس کی کوئی جزء صحیح نہ ہو یعنی وہ ایك عدد کی دوسرے میں ضرب سے مرکب نہ ہو جیسے گیارہ تواب کہہ کہ ان دونوں میں موافقت گیارہویں جزء کی ہے اس لئے کہ کسی دوسری شیئ کے ساتھ اس کی صحیح تعبیرممکن نہیں،اوراگر دوعددوں کوفناکرنے والا عدد زوج ہوجیسے اٹھارہ یافردمرکب ہو،ارفردمرکب وہ ہوتا ہے جس کی دو یادوسے زائد جزئیں صحیح ہوں جیسے پندرہ،تو اس صورت میں اگرتوچاہے توایسے ہی کہے جیسا کہ تونے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع