30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وجزء من ثلٰثۃ عشر ویمکن فی بعضھا ان یعبر بالکسور المنطقۃ المرکبۃ وللتنبیہ علی ذٰلك خلط الشیخ المنطق بالاصم حیث ذکر احد عشر وخمسۃ معا[1]۔وفی حاشیتھا للقاضی عبدالنبی الاحمد نگری رحمہ اﷲ تعالٰی فان قیل لم قال المص وفیما وراء العشرۃ یتوافقان بجزء مع انہ یمکن التعبیر فی البعض بغیر لفظ الجزء قلت غرض المص رحمہ اﷲ تعالٰی ا ان توافق العددین فیما وراء العشرۃ بجزء حکم کلی دون التعبیر بلفظ اخرفافھم[2]۔وفی رد المحتار(تنبیہ)اذا توافقا فی عدد مرکب وھو مایتألف من ضرب عدد فی عدد کخمسۃ عشر مع خمسۃ و اربعین فان شئت قلت ھما متوافقان بجزء |
ایك جزء بارہ میں سے ایك جزء اور تیرہ میں سے ایك جزء اور ان میں سے بعض میں کسور منطقہ مرکبہ کے ساتھ تعبیر ممکن ہے۔اسی پرتنبیہ کرنے کے لئے شیخ(صاحب سراجیہ) نے منطق(جس کسر کولفظ جزئیت وغیرجزئیت سے تعبیر کیا جاسکتاہو)اوراصم(جس کسر کو فقط لفظ جزئیت کے ساتھ تعبیر کیاجاسکتاہو)کو ملاکر ذکرفرمایاکیونکہ اس نے گیارہ اورپندرہ کو اکٹھا ذکرکیا۔اس پرقاضی عبدالنبی احمدنگری علیہ الرحمہ کے حاشیہ میں ہے۔اگرکہاجائے کہ مصنف علیہ الرحمہ نے یہ کیوں کہا کہ دس سے اوپروالے اعداد میں توافق ان کی ایك جزء کے ساتھ ہوتاہے جبکہ بعض میں بغیر لفظ جزء کے ساتھ ہوتاہے جبکہ بعض میں بغیر لفظ جزء کے تعبیر ممکن ہے تو میں کہوں گا کہ مصنف علیہ الرحمہ کی غرض یہ ہےکہ دس سے اوپر والے اعداد میں جزء کے ساتھ توافق ایك حکم کلی ہے بخلاف کسی دوسرے لفظ کے ساتھ تعبیرکے۔پس سمجھو۔رد المحتار میں ہے(تنبیہ)جب دو عدد کسی عدد مرکب میں باہم متفق ہوجائیں جوکہ ایك عدد کی دوسرے میں ضرب سے مؤلف ہوتاہے جیسے پندہ پینتالیس کے ساتھ۔پس اگرتوچاہے تو یوں کہے کہ ان دونوں میں توافق پندرہ کی ایك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع