30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شادی کی،زوجہ ثانیہ نے کل مہر اپنا زید کو معاف کردیا،اب زید نے یہ زوجہ اور دوبرادرحقیقی ورثہ اپنے چھوڑ کر وفات پائی،اس صورت میں ترکہ زید کا کس طرح منقسم ہوگا؟ اور بابت مہرباقیماندہ زوجہ اولٰی کے ترکہ سے کس قدر کسے دیاجائے گا؟ بیّنوا توجروا
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات ترکہ زید سے پہلے پہلے بقیہ مہرزوجہ اولٰی جو ذمہ زیدواجب الاداء ہے یعنی نصف مہر باقیماندہ کے بہتّر ۷۲حصوں سے انیس۱۹ حصے زوجہ اولٰی کی ماں کو دئیے جائیں کما یظہر بالتخریج(جیسا کہ مسئلہ کی تخریج سے ظاہرہوگا۔ت)اسی طرح اگر اوردیون ووصایائے زید ہو تو وہ بھی ادا ونافذ کئے جائیں۔اس کے بعد جس قدرباقی بچے آٹھ سہم پر منقسم ہو دو سہم زوجہ ثانیہ اورتین تین ہربھائی کو پہنچیں۔واﷲ اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم(اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اور اس کا علم اتم اور اس کا حکم مستحکم ہے۔ت)
مسئلہ ۴ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص تین پسر اور ایك دختر بطن زوجہ منکوحہ ذی مہر سے چھوڑ کر فوت ہوا اور تین پسر اور تین دختربطن دوعورتوں غیرمنکوحہ سے چھوڑے بعدہ،زوجہ منکوحہ بھی وہی اولاد مذکورچھوڑ کرفوت ہوئی،اس صورت میں ترکہ متوفیہ کا کس طرح منقسم ہوگا اور بحالت زندہ رہنے اورعورات غیرمنکوحہ اور ان کی اولاد کے کون کون مستحق وراثت کا ہے اور ادائے دین مہرتقسیم ترکہ پرمقدم ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب:
جن دو۲ عورتوں کو سائل غیرمنکوحہ ظاہرکرتاہے اگر فی الواقع ان سے نکاح ہوناثابت نہیں،نہ وہ کنیزان شرعی،نہ ایك مدت تك اس شخص کے پاس مثل ازواج رہیں،اور باہم ان میں معاملات مانند زن وشوہر جاری نہ تھے تو وہ دونوں اور ان کی اولاد سب ترکہ سے محروم ہیں۔اس صورت میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث کا اداء الدیون واجراء الوصایا ترکہ شخص متوفی کاسات سہم پرمنقسم ہوکر دو۲ دو۲ سہم تینوں پسر زوجہ منکوحہ اورایك اس کی دختر کوملے گا اور ادائے دین مہرمثل سائردیون ووصایا تقسیم ترکہ پربلاریب مقدم ہے ھو مصرح بہ فی کتب الفقہ (کتب فقہ میں اس کی تصریح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع