30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت وصیت کنندہ کے حصہ میں آکر پڑے گا خواہ بہو کے ترکہ سے بذریعہ دَین تجہیزوتکفین(جس حالت میں کہ وہ واجب الاداہو)یاپسر کے حصہ سے خواہ بذریعہ مطالبہ تجہیزوتکفین شرط مذکور یابطور وراثت یادونوں وجہوں سے ان سب کو جمع کرکے مع اس کے باقی مال کے(اگر رکھتی ہو)اس مجموع کی تہائی میں اس کی وصیت خیرات بے اجازت اس کے وارثوں کے نافذہوگی،
|
فان الدین ایضا یدخل فی الوصیۃ بالمال علی مارجحہ فی الوھبانیۃ لانہ مال حکمی واذا خرج صار مالاحقیقۃ وثبوت حق الموصی لہ بعد الخروج ممکن کالموصی لہ فی القصاص واذا انقلب مالایثبت فیہ حقہ لانہ مال المیت اما قولھم من حلف لامال لہ ولہ دین لایحنث فذٰلك لان بناء الایمان علی العرف افادہ فی معراج الدرایۃ قلت ومن الدلیل علی ماقلت جوازالبیع بالدین وانما ھو مبادلۃ مال بمال فافھم۔ |
میت نے جوقرض لیناہے وہ بھی مال کی وصیت میں داخل ہوگا جیسا کہ وھبانیہ میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ وہ حکمی طورپر مال ہے اور جب وہ وصول ہوجائے تو حقیقۃً مال ہوگا اور موصٰی لہ،کے حق کا ثبوت وصولی کے بعد ہی ممکن ہے جیسا کہ قصاص میں موصٰی لہ،اور جب وہ قرض مال بن گیا تو اس میں موصٰی لہ،کاحق ثابت ہوجائے گا کیونکہ وہ میت کا مال ہے۔لیکن مشائخ کاقول کہ"جس شخص نے قسم کھائی کہ اس کا کوئی مال نہیں حالانکہ اس کا قرض کسی پر ہے تو وہ حانث نہیں ہوگا،۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قسموں کی بنیاد عرف پر ہوتی ہے معراج الدرایہ میں اس کا فائدہ دیاہے،میں کہتاہوں میرے قول پرایك دلیل قرض کے بدلے بیع کاجائزہوتاہے کیونکہ بیع نام ہے مال کامال کے ساتھ تبادلے کرنے کا۔پس سمجھ۔(ت)باقی جو رہے گا خاص اس کے وارثوں کاہے۔واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم |
مسئلہ ۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ اولٰی جس نے نصف مہراپنا اپنی حیات میں زید کو ہبہ کردیاتھا ایك بیٹا اسی شوہر سے اور ایك ماں اور شوہر چھوڑ کر انتقال کرگئی اس کے بعد وہ لڑکا بھی باپ اور نانی کے سامنے مرگیا،زیدنے دوسری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع