30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتے ہی جسم گھلنے لگاگوشت پوست،استخواں سب فناہوگیا صرف ایك قطرہ آب باقی رہا۔حضرت غوثیت رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بعد نمازروئی کے پارہ میں اٹھاکر دفن کردیا اورفرمایا سبحان اﷲ ایك تجلی میں ساعت قیامت ہے یہ آسمان وزمین اورجوکچھ ان کے درمیان ہے سب کوفناکردے گی اسی لئے باری عزوجل اس دن یوں ارشاد فرمائے گا: " لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ؕ"[1]کل تك سب کہتے تھے یہ ملك میری ہے یہ ملك میراہے آج بتاؤ کس کی بادشاہی ہے۔پھرخودہی فرمائے گا " لِلہِ الْوٰحِدِ الْقَہَّارِ ﴿۱۶﴾"[2] ایك اﷲ قہروالے کی۔اس وقت باسم قہاراپناوصف بیان فرمائے گا کہ وہ تجلی شان قہرکی ہوگی،وحسبنااﷲ۔
شعردوم: خاکی بدن مقیدکیونکر جمال حق کا مطلق کی شان کیا ہے اس کی مثال بولو
الجواب:اس کی ایك ظاہری مثال یوں سمجھنی چاہئے کہ جیسے آفتاب کانوراپنی ذات میں ایك ہے،نہ اس میں صورتوں کااختلاف ہے نہ قوت وضعف کافرق ہے،نہ جداجدارنگ ہیں،نہ متعدد نام ہیں،وہی نورواحد پہلی شب کے چاندپرپڑا اوریہاں یہ صورت پیدا کی کہ اس کانام ہلال ہوا،پھر ہرروزنئی صورت اورزیادہ ترقی وقوت ہوتی رہی،شب چہاردہم اسی نورسے بدرکی صورت پیدا ہوئی،پھراس میں ضعف آتاگیا یہاں تك کہ فناہوگیا۔وہی نورواحد آئینہ مصفّاپرپڑے توکیسی جھلك دیتاہے کہ نگاہ خیرہ وحیران اوردیواروں پرعکس نمایاں ہوا،اورصفائی آئینہ میں کمی ہے تونورمیں کمی اورزمین پرپڑنے میں وہ بات کوسوں نہیں کولوں وغیرہ سیاہ بے تابش چیزوں میں ایك ظہورکے سوا اورکچھ اثرنہیں ہوتاوہی ایك نورہے کہ جب قریب اُفق جانب شرق سے طولانی شکل پرچمکتاہے اس کاصبح اول نام رکھتے ہیں پھرجب پھیلتاہے وہی صبح صادق ہوتی ہے پھرجب سرخی لاتاہے وہی شفق ہے جب دن نکل آتاہے وہی دھوپ ہے یونہی بعد غروب اس کے ظہور کے تفاوت ہیں تودیکھوایك آفتاب کی تجلی اوراتنے اختلاف، اورہر حالت کے اعتبارسے اس کے جدانام ہیں اور جدا اوصاف،باایں ہمہ وہ نوراپنی ذات میں ایك ہے،اس میں کوئی تغیر نہیں،نہ وہ صبح اول کے وقت طویل ہوگیاتھا نہ صبح ثانی کے وقت چوڑا،نہ شفق کے وقت اس نے لباس سرخ پہنانہ دن نکلتے زردیاسفید،نہ ہلال پرچمکتے وقت کمان ہوگیاتھا نہ بدرپرپڑتے بشکل دائرہ،نہ آئینہ پرچمکتے وقت قوت پائی تھی نہ زمین پرآتے ہوئے ضعف،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع