30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیتاہے حالانکہ اس کو کسی ظاہری پیرسے اجازت نہیں ملی ہے لیکن وہ کہتاہے کہ خداکی طرف سے بذریعہ الہام مجھے اجازت ملی ہے اوراب کسی بندہ کی طرف رجوع کرنامیرے لئے ناجائزہے،اس کے آثاریہ ہیں کہ اس کی توجہ میں بڑازبردست اثرہے اس سے بیعت کرنے کے تھوڑے دنوں بعد لطیفہ قلب روشن ہوکرذکرجاری ہوجاتاہے اس کامجلس پربھی اثرہوجاتاہے اوراس سے بیعت کرنے پربہت سے گمراہ آدمی پابندصوم وصلوٰۃ ہوجاتے ہیں اوران نغ دل میں عشق الٰہی بھرجاتاہے اوردیوانہ وارپھرتے ہیں اس کی سرّی نماز میں بہت شوروغل ہوتاہے اورکبھی جذبہ آتاہے رقص بھی کرتے ہیں،کیامذکورہ بالاصفات کے ساتھ موصوف شخص سے جوکسی ظاہری پیر سے اجازت یافتہ نہ ہو بیعت کرنا اوراسے بیعت لیناجائزہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسے شخص کو بیعت لیناجائزنہیں اور اوراس کے ہاتھ پربیعت ناجائز ؎
اے پسرشرط صحت بیعت درطریقت اجازت سلف ست
بدغل سکہ نہ بہرہ مزن کان رہ کاسدان ناخلف ست[1]
(اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرط،طریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے۔ت)
حضرت سیدی بایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ودیگر اکابرکرام قدست اسرارہم فرماتے ہیں:
|
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطان۔[2] |
بے پیرے کاپیرشیطان ہوتاہے۔ |
یہ جوظاہری ذوق وشوق لوگوں میں دیکھاجاتاہے قابل اعتبارنہیں شیطان کی طرف سے بھی ہوتاہے اوراس پرواضح دلیل نماز میں شوروغل مچانا،اوررقص کرنایہ نہیں مگر شیطان کی طرف سے کہ نمازفاسد کرے،صحابہ کرام واکابراولیاء عظام سے ایسا کبھی منقول نہ ہواان سے زیادہ تاثیروبرکت کس کی ہوسکتی ہے مگرصادقین سے برکت ہوتی ہے اورکاذبین سے حرکت۔قال اﷲ تعالٰی " وَ لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمٰلَکُمْ ﴿۳۳﴾"[3] اپنے عمل باطل نہ کرو۔وقال تعالٰی " وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ﴿۲۳۸﴾"[4] اﷲ کے حضور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع