30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من مال نفسہ یرجع والا جنبی لایرجع[1] اھ وفیہا عن نھج النجاۃ لوکفن المیت غیرالوارث من مال نفسہ لیرجع فی ترکتہ بغیر امرالوارث فلیس لہ الرجوع اشھد علی الوارث او لم یشھد[2]۔ |
تو وہ ترکہ میں رجوع کرسکتاہے اور اجنبی ایسا کرے تو رجوع نہیں کرسکتا اھ اور اسی میں نہج النجاۃ سے منقول ہے اگرغیر وارث اپنے مال سے وارث کی اجازت کے بغیر اس نیت سے میت کو کفن پہنائے کہ وہ میت کے ترکہ میں رجوع کرے گا تو اس کو رجوع کا حق نہیں چاہے وارث کی موجودگی میں ایساکرے یاغیرموجودگی میں۔(ت) |
اس تقدیر پرنصف زیورخاص بہو کے ماں باپ کاہے جس کی نسبت عورت کی وصیت محض مہمل،اور اگرشوہر متوفاۃ یعنی اپنے پسرخواہ بہو کے مادریاپدرغرض اس کے کسی وارث کے اذن سے تجہیزوتکفین کی تو جس قدرصرف کفن دفن میں صَرف ہوا بشرطیکہ اس میں قدرسنت یعنی پانچ کپڑوں اورکفن مثل سے زیادتی نہ کی ہو اس قدر کی قیمت بہو کے ترکہ سے لے سکتی ہے۔
|
فی العقود اما الاجنبی فلارجوع لہ مطلقا الا فی اذن لہ الوارث[3]۔ |
عقود میں ہے لیکن اجنبی کومطلقًا رجوع کا حق نہیں سوائے اس کے کہ وارث نے اس کی اجازت دی ہو۔(ت) |
باقی کانصف اس کے ماں باپ کاحق ہے،رہادونوں صورتوں پرباقیماندہ آدھا نصیبہ شوہر تھا،اب تجہیزوتکفین پسر میں بھی نظر کریں گے اگرقدرسنت یاکفن مثل سے زیادت کی ہے مثلًا تین کپڑوں کی جگہ چارکپڑے دئیے یاجیسے کپڑے وہ عید کو پہنتا تھا ان سے بہترکفن دیاتو یہاں بھی ترکہ پسری سے اس کامطالبہ نہ کرسکیں گے بلکہ یہ ٹھہرے گا کہ وہ ایك سلوك تھا جو اس نے بطور خود کیا،
|
فی العقود عن الانقروی عن مجمع الفتاوٰی،ان کفنہ باکثر من کفن المثل لایرجع لان احدالورثۃ لا یملکہ وھل لہ ان یرجع فی الترکۃ بقدر کفن المثل |
عقود میں انقروی سے بحوالہ مجمع الفتاوٰی منقول ہے اگروارث نے میت کو کفن مثلی سے زائد پہنایا تورجوع نہیں کرے گا کیونکہ کوئی ایك وارث ایسانہیں کرسکتا،کیاصورت مذکورہ میں اس کو ترکہ میں کفن مثلی کی حد تك رجوع کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع