30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۶)اگرکوئی شبہہ دل میں گزرے توفورًا عرض کرے اوراگروہ شبہہ حل نہ ہوتا تواپنے فہم کانقصان سمجھے اوراگراس کاکچھ جواب نہ دے توجان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا۔
(۱۷)خواب میں جوکچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اوراگراس کی تعبیر ذہن میں آئے تو اسے بھی عرض کردے۔
(۱۸)بے ضرورت اوربے اذن مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔
(۱۹)مرشد کی آوازپراپنی آوازبلندنہ کرے اوربآوازاس سے بات نہ کرے اوربقدرضرورت مختصرکلام کرے اورنہایت توجہ سے جواب کامنتظررہے۔
(۲۰)اورمرشد کے کلام کودوسرے سے اس قدربیان کرے جس قدرلوگ سمجھ سکیں اورجس بات کویہ سمجھے کہ لوگ نہ سمجھیں گے تواسے بیان نہ کرے۔
(۲۱)اورمرشد کے کلام کورَد نہ کرے اگرچہ حق مریدہی کی جانب ہو بلکہ اعتقادکرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب سے بہترہے۔
(۲۲)اورکسی دوسرے کاسلام وپیام شیخ سے نہ کہے۔
(۲۳)جوکچھ اس کاحال ہوبرایابھلا اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا مرشد کے کشف پراعتماد کرکے سکوت نہ کرے۔
(۲۴)اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو اگرکچھ پڑھنا ہوتو اس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔
(۲۵)جوکچھ فیض باطنی اسے پہنچے اسے مرشد کاطفیل سمجھے اگرچہ خواب میں یامراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا ہے تب بھی یہ جانے کہ مرشد کاکوئی لطیفہ اس بزرگ کی صورت میں ظاہرہواہے(کذافی ارشاد رحمانی)قال العارف الرومی (عارف رومی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ت): ؎
چوں گرفتی پیربین تسلیم شو ہمچوموسٰی زیرحکم خضررو
صبرکن برکار خضراے بے نفاق تانگوید خضر روہذافراق [1]
جب تونے پیربنالیا توخبردار اب سرتسلیم خم کرلے،موسٰی علیہ السلام کی طرح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع