30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چلنے کی نہیں،
|
کما افادہ الامام القشیری فی رسالۃ المبارکۃ والامام السھروردی فی العوارف الشریفۃ وبیناہ فی فتاوٰی افریقۃ۔ |
جیساکہ امام قشیری علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ مبارکہ اورامام سہروردی علیہ الرحمۃ نے عوارف شریفہ میں اس کاافادہ فرمایا ہے۔اورہم نے اس کو فتاوٰی افریقہ میں بیان کیاہے۔(ت) |
بلکہ کسی لائق تکمیل سے استمداد کرے اس میں حتی الامکان لحاظ قرب رکھے اپنے شیخ کے خلفاء میں سے کوئی اس قابل ہوتووہ اولٰی ہے ورنہ اپنے سلسلے سے اقرب فالاقرب اورنہ ملے توجوملے یہ اس لئے کہ اختلاف راہ اطالت عمل کرنے اوراپنے زمانے میں اپنے حق میں اپنے شیخ صحیح المشیخہ سے کسی کو افضل جانناسوء ادب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۹۷: ازبانس بریلی محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ صاحب اشرفی جیلانی سجادہ نشین فتحپور ۱۴رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ایھا العلماء الراسخون رحمکم اﷲ تعالٰی فی ھٰذہ المسئلۃ(اے علماء راسخین! اس مسئلہ کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے۔ت)کہ جس مریدکو اپنے شیخ سے تعلیم طرق صوفیہ مراتب اذکار واشغال وغیرہ نہ معلوم ہوئے اور وہ شیخ انتقال فرما گئے یابوجوہات معقولہ ان سے تعلیم محال۔پس اس مرید کوشیخ ثانی سے تجدید بیعت توبہ کرکے طالب ہونا اولٰی ہے یا کہ اسی حال پربے تعلیم رہنامناسب،اورخلفائے راشدین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کی بیعت ہرخلافت کے وقت کس لئے صادرہوئی۔
الجواب:
دوسرے شیخ سے طالب ہومگر اپنی ارادت شیخ اول ہی سے رکھے اور اس سے جوفیض حاصل ہووہ اپنے ہی کی عطا جانے۔اولیائے کرام فرماتے ہیں ایك شخص کے دوباپ نہیں ہوسکتے،ایك عورت کے دوشوہر نہیں ہوسکتے،ایك مرید کے دوشیخ نہیں ہو سکتے۔خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے دست اقدس پربیعتیں ان کوامام ماننے اوران کی اطاعت کرنے کی تھیں جیسے ہر جدید بادشاہ کے ہاتھ پرکی جاتی ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع