30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سلسلہ درست بایدکرد دراکثر جاہا خلط وخبط گشتہ است نوعے ازاں آنست درویشے کہ درحالت حیات بسبب غفلت ویابہ سبب دیگر فرزند خودرا خلافت نمی دہد ومردماں راوصیت ہم نمی کند کہ بعدازمن باید کہ خرقہ من فرزند مرابپوشانید واو رابجائے من بنشانند فامامردماں آں مقام روزسوم خرقہ پدر پسررامی پوشانند واورابجائے پدرمے نشانند ازصحت وغیر صحت ایں کارنمی دانند خلقے بہ بیعت اواسیری گرددوادبے رخصت واجازت پدرپیرمی شودہمہ ضلالت درضلالت است چہ اگرچہ خرقہ متروکہ پدربسبب ارث ملك پسرشدولیکن شرط صحت بیعت رخصت و اجازت پدراست نہ مجرد خرقہ پدر مؤلف راست قطعہ ؎ اے پسر شرط صحت بیعت درطریقت اجازت سلف است بدغل سکہ بہرہ مزن کاں رہ کاسداں ناخلف است نوع دیگرانست اولیاء اسلاف کہ قطب وغوث بودند فرزندان ایشاں بے صحت اسناد وبے رخصت واجازت بمجرد نسبت فرزندی خلقے رامریدمی کنندوخلق می دانند کہ مابخانوادہ فلاں قطب وغوث پیوند درست کردیم وانابت |
اکثرجگہ اس میں خلط ملط ہوجاتاہے۔اس کی ایك قسم یہ ہے کہ کوئی درویش اپنی زندگی میں غفلت یاکسی اوروجہ سے اپنے بیٹے کوخلافت نہیں دیتا اورلوگوں کووصیت بھی نہیں کرتا کہ میرے بعد میراخرقہ میرے بیٹے کوپہنانا اوراس کو میری گدّی پربٹھانا۔لیکن اس علاقے کے لوگ وصال کے تیسرے روز اس کے بیٹے کوخرقہ پہناکر باپ کی گدی پربٹھادیتے ہیں اوراس کام کے صحیح یاغلط ہونے کاانہیں کوئی علم نہیں۔لوگ اس کی بیعت کے پابند ہوجاتے ہیں اوروہ باپ کی اجازت ورخصت کے بغیرپیربن جاتاہے۔یہ سب گمراہی درگمراہی ہے،اس لئے کہ اگرچہ باپ کاخرقہ متروکہ بطورمیراث بیٹے کی ملکیت ہوتاہے مگرصحت بیعت کی شرط باپ کی رخصت واجازت ہے نہ کہ محض باپ کے خرقہ کاحاصل ہوجانا،قطعہ: "اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرط طریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے"۔ دوسری قسم یہ ہے اولیائے اسلاف جوکہ غوث وقطب تھے ان کے بیٹے صحیح سند اوران کی رخصت واجازت کے بغیر محض بزرگوں سے نسبت فرزندی رکھنے کی وجہ سے لوگوں کومرید بناتے ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع