30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۸۵: مرسلہ عبدالستاربن اسمٰعیل شہرگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ یکشنبہ ۹شعبان ۱۳۳۵ھ
مریدہونا واجب ہے یاسنت؟ نیزمریدکیوں ہواکرتے ہیں؟ مرشد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیاکیافوائدحاصل ہوتے ہیں؟
الجواب الملفوظ
مریدہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اتصال مسلسل۔تفسیرعزیزی دیکھو آیہ کریمہ:
|
" صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬"[1] |
راستہ ان کاجن پرتونے انعام کیا۔(ت) |
میں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تك فرمایاگیا:
|
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطٰن۔[2] |
جس کاکوئی پیرنہیں اس کاپیرشیطان ہے۔(ت) |
صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگرانتساب باقی رہا تونظروالے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظرنہیں وہ نزع میں قبر میں حشرمیں اس کے فوائد دیکھیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۶: مسئولہ عبدالعزیز انصاری ازاٹاوہ شنبہ ۲۹شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وعرفائے اہل یقین اس مسئلہ میں کہ زیدشیخ وقت نے اپنے بیٹے عمرو کوامورفقرمیں اپنا خلیفہ نہیں کیا اورنہ اجازت مرید کرنے کی دی،عمرونے بعد وفات اپنے والد زیدکے بوجہ نہ پانے خرقہ فقرواجازت کے ان کے ایك خلیفہ نصیر سے اجازت خلافت حاصل کی تھی مگرجب کسی کو مریدکیا تواپنے باپ زیدکے نام سے کیا،اپنے پیر اجازت کانام شجرہ لکھنا نہیں معمول رکھا۔یہ طریقہ عمروکامطا بق کتب اہل طریقت وطریقہ مشائخ عظام جائزہوایانہیں؟ پھرعمرو نے اپنے بیٹے خالد کو اپنے حین حیات خرقہ دیا جس کوخالدنے کچھ عرصہ کے بعد یہ کہہ کرواپس کیاکہ میں نہیں لوں گا،اورنہ کبھی خالد نے عمروکی زندگی بھرتجدید اجازت وخلافت کی بابت کچھ تذکرہ کیاالبتہ عمرو نے اپنے مرض وصال میں قریب انتقال اپنی تسبیح وکتب وظائف وغیرہ ایك دوسرے شخص بکرکوجواس کااہل تھامع اجازت و خلافت دے دی اوراپنے مریدین کوبھی اسی کے سپردکیا مگر اپنے بیٹے خالد کوبوجہ اس کے نااہل ہونے وخرقہ واپس کرنے کے کچھ نہیں دیا،لیکن بعد وفات عمرو کے خالد نے خودبخود اس کے خرقہ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع