30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۸۴: ازکانپور مرسلہ مولوی آصف علی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوپتہ یادرخت بوجہ غفلت تسبیح گرجاتاہے یاجانور ذبح کردیاجاتاہے توپھربعداز سزائے غفلت اس کاتسبیح میں مشغول ہوناثابت ہے یانہیں؟
الجواب:
رب عزوجل فرماتاہے:
|
" تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الۡاَرْضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنۡ لَّا تَفْقَہُوۡنَ تَسْبِیۡحَہُمْ ؕ"[1]۔ |
اس کی تسبیح کرتے ہیں آسمان اورزمین اورجوکوئی ان میں ہے اورکوئی چیز ایسی نہیں جواس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگرتم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ |
یہ کلیہ عامہ جمیع اشیائے عالم کوشامل ہے،ذی روح ہویابے روح۔اجسام محضہ جن کے ساتھ کوئی روح نباتی بھی متعلق نہیں، کہ دائم التسبیح ہیں کہ"ان من شیئ"کے دائرے سے خارج نہیں۔مگر ان کی تسبیح بے منصب ولایت نامسموع نہ مفہوم۔اور وہ اجسام جن سے روح انسی یاملکی یاجنی یا حیوانی یانباتی متعلق ہے ان کی دوتسبیحیں ہیں:ایك تسبیح جسم،کہ ا س روح متعلق کے اختیارمیں نہیں وہ اسی"ان من شیئ"کے عموم میں اس کی اپنی ذاتی تسبیح ہے۔دوسری تسبیح روح،یہ ارادی اختیاری ہے اور برزخ میں ہرمسلمان کومسموع ومفہوم۔اس تسبیح ارادی میں غفلت کی سزاحیوان ونبات کوقتل وقطع سے دی جاتی ہے۔اوراس کے بعد جب جانور مرجائے یانبات خشك ہوجائے منقطع ہوجاتی ہے ولہٰذا ائمہ دین نے فرمایاکہ ترگھاس مقابر سے نہ اکھیڑیں فانہ مادام رطبا یسبح ﷲ فیؤنس المیت[2]کہ جب تك وہ ترہے اﷲ تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے تومیت کادل بہلتاہے۔مگرقتل و قطع وموت ویبس کے بعد بھی وہ تسبیح کہ نفس جسم کی تھی جب تك اس کاایك جزو لایتجزی باقی رہے گا منقطع نہ ہوگی کہ " وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"[3] (اورکوئی چیزنہیں جواسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے۔ت)اسے روح سے تعلق نہ تھاکہ تعلق روح نہ رہنے سے منقطع ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع