30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱: یکم ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ ایك عورت قوم طوائف سے تھی جس نے عمرو سے نکاح کیا،ہندہ کی نائکہ کے اور بھی چند رنڈیاں مختلف البطن تھیں جو اپنا پیشہ کسب اب تك کرتی ہیں ہندہ نے جس کا کوئی وارث نہ تھا شوہر کے بھتیجے کو متبنٰی کیا اور اپنی حیات میں اپنے کل متروکہ کی بابت جو اسے ترکہ شوہر ہی سے پہنچاتھا زید کے لئے وصیت کی کہ میرے بعد کل ترکہ کا مالك زید ہو،اب بعد انتقال ہندہ اس کی نائکہ کی دوسری رنڈیاں لیلٰی بدعوی خواہری ترکہ چاہتی ہے اس صورت میں شرعًا حق لیلٰی کا ہے یا زید کا؟ بیّنواتوجروا(بیان کرو اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
شوہر کا بھتیجا یہ اپنا متبنی شرعًا وارث نہیں،پس اگرگواہان عادل سے جنہیں شرع قبول کرلے وصیت ثابت ہوجائے تو شك نہیں کہ زید ہرطرح موصی لہ ہوگیا خواہ لیلٰی ہندہ کی بہن ہو یانہ ہو فرق یہ ہوگا کہ لیلٰی وہندہ ایك ماں کے پیٹ سے پیداہوئیں تو وہ اخیافی بہن ٹھہرکر چھٹے حصے کی فرضًا اور نصف کی ردًا مستحق ہوگی فان الرد مقدم عندنا علی الموصی لہ لجمیع المال(کیونکہ ہمارے نزدیك رَد اس شخص پرمقدم ہے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع