30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۷۷: ازکوہ شملہ لکڑبازار کوٹھی دورلی مرسلہ عبدالرحیم خاں ۱۸/ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
مخدوم ومکرم اعلٰی حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب زادمجدہ،سلام مسنون نیازمندانہ کے بعد عرض خدمت ہے زید کہتاہے بیعت غائبانہ کوئی شیئ نہیں،اورزیدجناب والا کامعتقد ہے۔لہٰذا بیعت غائبانہ جس حدیث شریف سے ثابت ہو جناب والا تحریرفرماکر اورمہرسے مزیّن فرماکر مشکورفرمائیں تاکہ زید کی تسلی کردی جائے۔اوروہ اگرحاضری سے معذورہے تو آنحضرت سے غائبانہ بیعت کاشرف حاصل کرے۔اس کاجواب اس پتہ پر روانہ فرمائیے۔کوہ شملہ بمعرفت امام جامع مسجد عبدالرحیم کوملے۔
الجواب:
|
" اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللہَ ؕ یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیۡدِیۡہِمْ ۚ"[1]۔ |
وہ جوتم سے بیعت کرتے ہیں تووہ اﷲ سے بیعت کرتے ہیں اﷲ کاہاتھ ان کے ہاتھ پرہے۔ |
اورفرماتاہے:
|
" لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"[2]
|
بے شك اﷲ راضی ہوامسلمانوں سے جب وہ تم سے بیعت کرتے ہیں درخت کے نیچے۔ |
صحیح بخاری شریف میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے جب یہ بیعت ہوئی ہے امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ غائب تھے،بیعت حدیبیہ میں ہوئی اوروہ مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کوفرمایا یہ عثمان کاہاتھ ہے،پھراسے اپنے دوسرے دست مبارك پرمارکر ان کی طرف سے بیعت فرمائی اورفرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے،لفظ حدیث یہ ہیں:واما تغییبہ عن بیعت الرضوان فانہ لوکان احد اعز ببطن مکۃ من عثمان بن عفّان لبعثہ مکانہ فبعث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عثمان وکانت بیعت الرضوان بعد ماذھب عثمان الٰی مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ الیمنی ھذہ یدعثمان فضرب بھا علٰی یدہ وقال ھٰذہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع