30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میراقدم تیری گردن پراورتیرا قدم کل اولیاء اﷲ کی گردن پر ہوگا۔مداریوں نے دریافت کیاکہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی گردن پربھی اورحضرات حسنین علیہما السلام خواجہ حسن کی گردن پربھی رحمۃ اﷲ علیہ وحضرت خواجہ حبیب عجمی اورمدارصاحب کی گردن پرتھایانہیں؟ خاندان غوثیہ والوں نے جواب دیاکہ مدارصاحب کی گردن پرقدم تھا۔ اورجوصاحبان پہلے گزرچکے ہیں ان پرنہیں خاندان مداریہ والوں نے جواب دیا:ہماراخانوادہ طیفوریہ دوئم اورتمہارا خانوادہ طوسیہ ہفتم ہے،ہمارے خاندان سے تمہاراخاندان بعد میں ہوا۔اورمداریہ کہتے ہیں کہ مدارکارتبہ غوث سے اعلٰی ہے۔جناب کو تکلیف دے کرعرض ہے کہ مدارکے کیامعنی ہیں؟ اورجو درجہ مداریہ ہے اس کی کیاتشریح ہے؟ اوران دونوں خاندان والے صاحبان میں کون حق پرہیں اورکون سے نہیں؟ سوآپ کے اورکوئی عالم صاحب اس مرحلہ کوطے نہیں کرسکتے بلکہ یہاں تك نوبت ہوگئی ہردوجانب سے آمادہ فساد پرہوجائیں توعجب نہیں۔ماشاء اﷲ آپ عالم باعمل ہیں اورجملہ خاندان عالیہ سے سندیافتہ ہیں۔اہل علم میں فساد ہونا موجب سبکی کاہے۔اوردونوں خاندان والے جناب کے قول کوصادق ہونے پرمضبوط ہیں اورکہتے ہیں کہ جومولوی صاحب فرمائیں گے وہ ہم دونوں صاحبان کومنظورہے۔اﷲ پاك جناب کوہم سیہ کاروں پرہمیشہ ہمیشہ سلامت اورقائم رکھے۔حضورکے ہونے سے جملہ صاحبان اہل آلام کوہرطرح کی تقویت حاصل ہے۔زیادہ حد ادب!
الجواب:
عوام کوایسے امورمیں بحث کرناسخت مضرت کاباعث ہوتاہے۔مبادا کسی طرف گستاخی ہوجائے توعیاذًا باﷲ سخت تباہی و بربادی،بلکہ اس کی شامت سے زوال ایمان کااندیشہ ہے،حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس اﷲ سرہ العزیز ضروراکابر اولیاء سے ہیں مگر اس میں شك نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کامرتبہ بہت اعلٰی وافضل ہے۔غوث اپنے دَور میں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔اورہمارے حضورامام حسن عسکری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تشریف آوری تك تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء اﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاك ہے۔امام ابوالحسن علی بن یوسف بن حمریر لخمی بن شطنوفی قدس سرہ العزیز نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں بسند مسلسل دواکابر اولیاء اﷲ معاصرین حضورغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ حضرت سیدی احمد ابن ابی بکرحریمی وحضرت ابوعمروعثمان ابن صریفینی قدس اﷲ اسرارہما سے دوحدیثیں روایت فرمائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع