30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقامِ اوّل:ادنٰی مقام"جوشش عشق ورشك ہے"یعنی دل کی خواہش تویہی ہے کہ حبیب بے خلش رقیب جلوہ گرہومگر"حبیب ورقیب"شدت مصاحبت سے متلازم ہیں کہ ایك کادیکھنا دوسرے کے دیکھنے اورایك کانہ دیکھنا دوسرے کے نہ دیکھنے کومستلزم ہے۔ نظربراں جب رشك جوش کرتاہے،حبیب کو دیکھنانہیں چاہتاکہ اس کی رویت بے رویت رقیب نہ ہوگی۔اوررویت رقیب ہرگزمنظورنہیں،اورجب عشق جوش زن ہوتاہے،رقیب کودیکھنانہیں چاہتاکہ اس کانہ دیکھنا حبیب کے نہ دیکھنے کومستلزم ہوگا۔اوردیدارحبیب سے محرومی گوارانہیں۔
مقامِ دوم:اوسط"مقام فنائے ارادہ درارادہ محبوب"یعنی خواہش دل تو وہی کہ حبیب بے رقیب متجلی ہو،مگرحبیب کاارادہ اس کاعکس ہے وہ چاہتاہے کہ میں اسے نہ دیکھوں اوررقیب کودیکھوں کہ غیظ پاؤں اورمرادنہ پاؤں۔جب فنائے ارادہ فی ارادۃ الحبیب کامقام واردہوتاہے میں اپنی اس خواہش دلی سے درگزرکرتاہوں ؎
میل من سوئے وصال وقصداوسوئے فراق ترك کام خود گرفتم تابرآید کام دوست
(میری رغبت وصال کی طرف اوراس کاارادہ فراق کاہے،میں نے اپنامقصد ترك کردیاتاکہ دوست کامقصد پوراہوجائے۔ت)
؎ فراق ووصل چہ خواہی رضائے دوست طلب کہ حیف باشد ازوغیراوتمنائے
فراق ووصل کیاچاہتاہے دوست کی رضامندی طلب کرکیونکہ اس سے اس کے غیر کی تمناکرناافسوسناك ہوگا۔ت)
مقام سوم:"اعلٰی مقام فناء فی المحبوب"کہ خود اپنی ذات ہی باقی نہ رہے غیرواضافات ونسبت وتعلقات کہاں سے آئیں۔رقیب کاغیرہونا ظاہر،اوررویت حبیب کاتصور بھی تصورغیرہے کہ رؤیت تین چیزوں کوچاہتی ہے:رائی،مرئی،اوروہ تعلق کہ ان دونوں میں ہوتاہے،بلکہ حبیب کوجاننابھی بے تصورنفس ممکن نہیں کہ حبیب وہ جس سے محبت ہو۔اورمحبت کوہردوحاشیہ محب ومحبوب واضافت بینہما سے چارہ نہیں۔جب میں ہمہ تن فناء فی المحبوب ہوں تورقیب،حبیب و رویت وعدم رویت کو کون سمجھے،اورارادہ وخواست کدھرسے آئے۔لاجرم اس وقت ان میں سے کچھ خواہش نہیں رہتی۔
|
اللھم ارزقنا ھذاالمقام فی رضاك وصل وسلم و بارك علٰی مصطفاک |
اے اﷲ! ہمیں اپنی رضامیں یہ مقام عطافرما۔اوراپنے منتخب محبوب،اس کی آل،اصحاب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع