30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقدجاء بعضھم الٰی زیارتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم یدخل المدینۃ بل زار من خارجہا ادبا منہ رحمہ اﷲ تعالٰی مع نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیل لہ الاتدخل؟ فقال امثلی یدخل بلاد سید الکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لااجد نفسی تقدر علٰی ذٰلك اوکماقال[1]۔ |
یعنی بعض صالحین زیارت نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے حاضرہوئے توشہرمیں نہ گئے بلکہ باہرسے زیارت کرلی،اوریہ ادب تھا اس مرحوم کا اپنے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ،اس پرکسی نے کہا اندرنہیں چلتے،کہاکیامجھ سا داخل ہوسیدالکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے شہرمیں، میں اپنے میں اتنی قدرت نہیں پاتا ہوں۔ |
مثال۶:اسی میں ہے:
|
قال لی سید ابومحمد رحمہ اﷲ تعالٰی لما ان دخل مسجدالمدینۃ ماجلست فی المسجد الالجلوس فی الصلٰوۃ وکلامًا ھذامعناہ ومازلت واقفا ھناك حتی دخل الرکب۔[2] |
یعنی مجھ سے میرے سردارابومحمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا میں جب مسجد مدینہ طیبہ میں داخل ہوا جب تك رہا مسجد شریف میں قعدہ نمازکے سوانہ بیٹھا اوربرابر حضورمیں کھڑارہاجب تك قافلہ نے کوچ کیا۔ |
مثال۷:اس کے متصل انہیں امام سے نقل کرتے ہیں:
|
ولم اخرج الٰی بقیع ولاغیرہ ولم ازر غیرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکان قدخطر لی ان اخرج الٰی بقیع الغرقد فقلت الٰی این اذھب،ھذاباب اﷲ تعالٰی المفتوح للسائلین والطالبین والمنکسرین و المضطرین والفقراء والمساکین و |
میں حضوری چھوڑکر نہ بقیع کوگیانہ کہیں اورگیا نہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سواکسی کی زیارت کی،اورایك دفعہ میرے دل میں آیا تھاکہ زیارت بقیع کوجاؤں پھرمیں نے کہاکہاں جاؤں گایہ ہے اﷲ کادروازہ کھلاہواسائلوں اور مانگنے والوں اوردل شکستہ اوربے چاروں اورمسکینوں کے لئے اور وہاں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع