30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مثال۱:سیدنا امام مالك صاحب المذہب عالم المدینہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بآنکہ مثل سیدنا عبداﷲ بن عمرو وعبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالٰی عنہ اتباع سلف وصحابہ کرام کااحداث میں نہایت ہی اہتمام رکھتے تھے۔اس پران کے ایمان ومحبت کاتقاضا ہواکہ ادب وحدیث خوانی میں وہ باتیں علماء کے نزدیك امام مالك کے فضائل جلیلہ سے ٹھہرا اوران کی غایت ادب ومحبت پردلیل قرارپایا۔امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شفاء شریف میں لکھتے ہیں:
|
قال مطرف کان اذا اتی الناس مالکا خرجت الیھم الجاریۃ فتقول لھم یقول لکم الشیخ تریدون الحدیث اوالمسائل فان قالوا المسائل خرج الیھم، وان قالوا الحدیث دخل مغتسلہ واغتسل وتطیب ولبس ثیابا جُددا ولبس ساجہ وتعمم وضع علی رأسہ ردائہ وتلقی لہ منصّۃ فیخرج ویجلس علیھا وعلیہ الخشوع لایزال یبخربالعود حتی یفرغ من حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال غیرہ ولم یکن یجلس علٰی تلك المنصّۃ الا اذا حدث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابن اویس فقیل المٰلك فی ذٰلك فقال احب وان اعظم حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولااحدث بہ الا علٰی طھارۃ متمکنا[1]۔ |
مطرف نے کہا جب لوگ مالك بن انس کے پاس علم حاصل کرنے آتے ایك کنیزآکرپوچھتی شیخ تم سے فرماتے ہیں تم حدیث سیکھنے آئے ہویافقہ ومسائل؟ اگرانہوں نے جواب دیا فقہ ومسائل،جب توآپ تشریف لاتے اوراگرکہا کہ حدیث، توپہلے غسل فرماتے خوشبولگاتے نئے کپڑے پہنتے طیلسان اوڑھتے اورعمامہ باندھتے چادرسرمبارك پررکھتے ان کے لئے ایك تخت مثل تخت عروس بچھایاجاتا اس وقت باہرتشریف لاتے اوربنہایت خشوع اس پرجلوس فرماتے اور جب تك حدیث بیان کرتے تھے اگربتی سلگاتے اوراس تخت پراسی وقت بیٹھتے تھے جب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا ہوتی۔حضرت سے اس کاسبب پوچھا،فرمایا میں دوست رکھتاہوں کہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کروں اورمیں حدیث بیان نہیں کرتا جب تك وضوکرکے خوب سکون ووقار کے ساتھ نہ بیٹھوں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع