30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدناعبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے صاحبزادے کونمازمیں بسم اﷲ بآوازپڑھتے سنا،فرمایا:
|
ای بنی محدث ایاك والحدث۔[1] |
اے میرے بیٹے! یہ نوپیدابات ہے،بچ نئی باتوں سے۔ |
یہ فعل بھی اس زمانہ میں واقع ہوئے تھے انہیں بدعت سیئہ مذمومہ ٹھہرایاتو معلوم ہواکہ ان کے نزدیك بھی اپنے زمانہ میں ہونے نہ ہونے پرمدارنہ تھا بلکہ نفس فعل کودیکھتے اگر اس میں کوئی محذورشرعی نہ ہوتا اجازت دیتے ورنہ منع فرماتے اوریہی طریقہ بعینہ زمانہ تابعین وتبع تابعین میں رائج رہاہے۔اپنے زمانہ کی بعض نوپیداچیزوں کومنع کرتے بعض کوجائزرکھتے اوراس منع واجازت کے لئے آخر کوئی معیارتھااوروہ نہ تھامگرنفس فعل کی بھلائی برائی،توباتفاق صحابہ وتابعین وتبع تابعین قاعدہ شرعیہ وہ قرارپایا کہ حسن حسن ہے اگرچہ نیاہو اورقبیح قبیح ہے اگرچہ پراناہو،پھران کے بعد یہ اصل کیوں کربدل سکتی ہے،ہماری شرع بحمداﷲ ابدی ہے،جوقاعدے اس کے پہلے تھے قیامت تك رہیں گے،معاذاﷲ زیدوعمروکاقانون توہے ہی نہیں کہ تیسرے سال بدل جائے۔
نکتہ۹ فــــــ:یہ اعتراض کہ پیشوائے دین نے تویہ فعل کیاہی نہیں ہم کیونکر کریں زمانہ صحابہ میں پیش ہوکر رَد ہوچکا اوربفرمان جلیل حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ وسیدنا فاروق اعظم وغیرہما صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم قرارپاچکاکہ بات فی نفسہٖ اچھی ہوناچاہئے اگرچہ پیشوائے دین نے نہ کی ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے:
|
عن زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال ارسل الٰی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمرابن الخطاب عندہ، |
حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جنگ یمامہ میں بہت صحابہ حاملان قرآن شہیدہوئے توصدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مجھے بلوایا،میں حاضرہوا |
[1] جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی ترك الجہر امین کمپنی دہلی ۱/ ۳۳
ف:نکتہ ۹:حدیث قرون کاپانچواں جواب اور اس کارَد کہ پیشواؤں نے نہ کیا تم کیسے کرتے ہو اورزمانہ صدیق میں وہابیت پرصحابہ کبارکااتفاق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع