30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنہ و ہرقرنے قریب بہ دوازدہ سال بودہ است قرن درلغت قوم متقارنین فی السن بعد ازاں قومے راکہ درریاست وخلافت مقترن باشد قرن گفتہ شد چوں خلیفہ دیگر باشند ووزرائے حضوردیگر وامرائے امصار دیگر ورؤسائے جیوش دیگر وسپاہان دیگر وحربیان دیگروذمیان دیگرتفاوت قرون بہم می رسد[1]۔ |
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کازمانہ خلافت ہے اورہر قرن تقریبًا بارہ سال کاہے۔قرن لغت میں اس قوم کوکہتے ہیں جوعمر میں قریب قریب ہوں،پھر اس کااطلاق اس قوم پر ہونے لگاجو ریاست وخلافت میں مقترن ہو۔جب خلیفہ دوسرا ہو،اس کے وزراء وامراء،سپہ سالار،فوج،حربی اورذمی دوسرے ہوں توقرن بدل جاتاہے۔(ت) |
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
|
قرن اول زمان آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بوداز ہجرت تاوفات وقرن ثانی زمان شیخین وقرن ثالث زمان ذی النورین بعدازاں اختلافہا پدیدآمد وفتنہا ظاہر گردیدند[2]۔ |
قرن اول سرکاردوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہجرت سے وصال تك کا زمانہ ہے اور قرن ثانی شیخین یعنی صدیق وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کازمانہ ہے اورقرن ثالث سیدنا عثمان ذو النورین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کازمانہ ہے اس کے بعد اختلافات نمودارہوئے اورفتنے ظاہرہوئے۔(ت) |
بالجملہ اس قدرمیں توشك نہیں کہ یہ معنی بھی حدیث میں صاف محتمل اوربعداحتمال کے تمہارا استدلال یقینا ساقط۔والحمد ﷲ رب العالمین۔
نکتہ ۷فــــــ:اگرکسی زمانہ کی تعریف حدیث میں آنااسی کاموجب ہوکہ اس کے محدثات خیرقرار پائیں توبسم اﷲ وہ حدیث ملاحظہ ہوکہ امام ترمذی نے بسندحسن حضرت انس اور امام احمدنے حضرت عماربن یاسراورابن حبان نے اپنی صحیح میں عماربن یاسر وسلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کی اورمحقق دہلوی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں بنظرکثرت طرق اس کی صحت پرحکم دیاکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
مثل امتی مثل المطرلایدری |
میری امت کی کہاوت ایسی ہے جیسے مینہ کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع