30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں ان سے کون استدلال کرتاہے، نہ ہماراعقیدہ کہ جس زمانہ کے جاہل جوبات چاہیں اپنی طرف سے نکال لیں وہ مطلقًا محمودہوجائے گی۔کلام علماء میں ہے کہ جس امرکویہ اکابرامت مستحب ومستحسن جانیں وہ بے شك مستحب ومستحسن ہے چاہے کبھی واقع ہوکہ علمائے دین کسی وقت میں مصدر ومظہرشرنہیں ہوتے، والحمدﷲ ربّ العٰلمین(اورسب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)
نکتہ ۶ فــــــ:اگرکسی زمانے کی تعریف اوراس کے مابعد کانقصان احادیث میں مذکورہونا اسی کومستلزم ہوکہ اس زمانہ کے محدثات خیرٹھہریں اورمابعد کے شرتو اکثرصحابہ وتابعین سے بھی ہاتھ اٹھارکھئے۔
|
اخرج الحاکم وصححہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال بعثنی بنو المصطلق الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقالوا سل لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی من ندفع صدقاتنا بعدک، فقال الٰی ابی بکرقال فان حدث بابی بکر حدث فالی من، فقال الٰی عمر قالوا فان حدث بعمر حدث، فقال الٰی عثمان قالوا فان حدث بعثمٰن حدث فقال ان حدث بعثمان حدث فتبالکم الدھر تبا[1] اھ ملخصًا۔ و اخرج ابونعیم فی الحلیۃ والطبرانی عن سھل بن ابی حثمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث طویل قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اتی علی ابی بکر اجلہ وعمر اجلہ وعثمٰن اجلہ فان |
امام حاکم نے تخریج وتصحیح فرمائی کہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی مصطلق نے حضورسرور دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا کہ حضورسے پوچھوں حضورکے بعد ہم اپنے اموال کی زکوٰۃ کسے دیں، فرمایا ابوبکرکو، عرض کی اگرابوبکر کوکوئی حادثہ پیش آئے،فرمایا عمر کو۔عرض کی اگرعمر کوکوئی حادثہ پیش آئے، فرمایا عثمان کو۔عرض کی اگرعثمان کوکوئی حادثہ منہ دکھائے فرمایااگر عثمان کابھی واقعہ ہوتو، فرمایاخرابی ہوتمہارے لئے ہمیشہ پھر خرابی ہے اھ ملخصًا۔ (ابونعیم نے حلیہ میں اورطبرانی نے سہل بن ابی حثمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ایك طویل حدیث میں تخریج فرمائی۔ت) حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب انتقال کریں ابوبکروعمروعثمان تواگرتجھ سے ہوسکے کہ مرجائے |
[1] المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ امرالنبی صلی اﷲ علیہ وسلم لابی بکربامامۃ الناس فی الصلوٰۃ دارالفکربیروت ۳/ ۷۷
ف:نکتہ ۶:حدیث خیرالقرون کی دوسری طرح سے بحث۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع