30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی مستحسن کے نیچے داخل ہیں تو محمود، اوربالفرض کسی کے نیچے داخل نہ ہوئے تومباح ہوکرمحمودٹھہریں گے کہ جو مباح بہ نیت نیك کیاجائے شرعًا محمودہوتاہے کما فی البحرالرائق وغیرہ(جیساکہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے۔ت)کیوں کیسے کھلے طورپر ثابت ہواکہ ان افعال کی سند زمانہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے مانگنا کس قدرنادانی وجہالت تھا والحمدﷲ(اورسب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں۔ت)
نکتہ ۵ فــــــ:بڑی مستند ان حضرات کی حدیث:
|
خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم[1]۔ |
سب سے بہترمیرازمانہ ہے پھراس کے بعد والوں کاپھران کے بعد والوں کا۔(ت)ہے۔ |
اس میں بحمداﷲ ان کے مطلب کی بوبھی نہیں، حدیث میں توصرف اس قدرارشادہواکہ میرازمانہ سب سے بہتر ہے پھر دوسرا پھرتیسرا، اس کے بعدجھوٹ اورخیانت اورتن پروری اور خواہی نخواہی گواہی دینے کاشوق لوگوں میں شائع ہوجائے گا، اس سے یہ کب ثابت ہواکہ ان زمانوں کے بعد جوکچھ حادث ہوگا اگرچہ کسی اصل شرعی یاعام مطلق ماموربہ کے تحت میں داخل ہو شنیع ومذموم ٹھہرے گا، جو اس کے ثبوت کادعوی رکھتاہو بیان کرے کہ حدیث کے کون سے لفظ کایہ مطلب ہے۔اے عزیز! یہ توبالبداہۃ باطل کہ زمانہ صحابہ وتابعین میں شرمطلقًا نہ تھانہ ان کے بعد خیرمطلقًا رہی، ہاں اس قدرمیں شك نہیں کہ سلف میں اکثرلوگ خداترس متقی پرہیزگار تھے بعد کو فتنے فسادپھیلتے گئے، پھریہ کن میں، یہ انہیں لوگوں میں جو علم و محبت اکابرسے بہرہ نہیں رکھتے، ورنہ علمائے دین ہرطبقہ اورہرزمانہ میں منبع ومجمع خیررہے ہیں مگر ہوایہ کہ ان زمانوں میں علم بکثرت تھاکم لوگ جاہل رہتے تھے اورجوجاہل تھے وہ علماء کے فرمانبردار، اس لئے شروفساد کوکم دخل ملتاکہ دین متین دامن علم سے وابستہ ہے اس کے بعد علم کم ہوتاگیا، جہل نے فروغ پایا، جاہلوں نے سرکشی وخودسری اختیارکی، لاجرم فتنوں نے سراٹھایا، اب یہ یہیں نہ دیکھ لیجئے کہ صدہاسال سے علمائے دین مجلس وقیام کو مستحب ومستحسن کہتے چلے آتے ہیں تم لوگ ان کاحکم نہیں مانتے، انہیں سرتابیوں نے اس زمانے کوزمانہ شربنادیا۔تویہ جس قدر مذمتیں ہیں اس زمانہ مابعدکے جہّال کی طرف راجع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع