30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال تعالٰی" وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾"[1]قال "وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ "۔[2] |
(اﷲتعالٰی نے فرمایا)جوخدا کے شعاروں کی تعظیم کرے تو وہ بیشك دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔ (اﷲ تعالٰی نے فرمایا)جوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تویہ بہترہے اس کے لئے اس کے رب کے یہاں۔ |
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقے سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اورخاص خاص طریقوں کے لئے ثبوت جداگانہ درکارنہ ہوگا۔ہاں اگر کسی خاص طریقہ کی برائی بالتخصیص شرع سے ثابت ہوجائے گی تو وہ بیشك ممنوع ہوگا جیسے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوسجدہ کرنا یاجانوروں کوذبح کرتے وقت بجائے تکبیر حضورکانام لینا، اسی لئے علامہ ابن حجرمکی جوہرمنظم میں فرماتے ہیں:
|
تعظیم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالٰی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم[3]۔ |
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جن میں اﷲ تعالٰی کے ساتھ الوہیت میں شریك کرنا نہ ہو ہرطرح امرمستحسن ہے ان کے نزدیك جن کی آنکھوں کو اﷲ نے نوربخشاہے۔ |
پس یہ قیام فــــــ۱ کہ وقت ذکرولادت شریفہ اہل اسلام محض بنظرتعظیم واکرام حضورسیدالانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام بجا لاتے ہیں بیشك حسن ومحمود ٹھہرے گا تاوقتیکہ مانعین خاص اس صورت کی برائی کاقرآن وحدیث سے ثبوت نہ دیں وانّٰی لھم ذٰلک(اوریہ ان کے لئے کہاں سے ہوگا۔ت)
تنبیہ:یہاں سے ثابت ہواکہ تابعین وتبع تابعین تودرکنار خودقرآن عظیم سے مجلس وقیام کی خوبی ثابت ہے۔الحمدﷲ رب العٰلمین۔
نکتہ ۳ فــــــ۲:ہم پوچھتے ہیں تمہارے نزدیك کسی فعل کے لئے رخصت یاممانعت ماننا اس پرموقوف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع