30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برائی پردلیل شرعی ناطق، صرف وہی ممنوع ومذموم ہے،باقی سب چیزیں جائزومباح رہیں گی،خاص ان کاذکر جوازقرآن و حدیث میں منصوص ہویا ان کاکچھ ذکرنہ آیا ہوتو جو شخص جس فعل کوناجائزوحرام یامکروہ کہے اس پرواجب کہ اپنے دعوے پر دلیل قائم کرے اورجائزومباح کہنے والوں کوہرگزدلیل کی حاجت نہیں کہ ممانعت پرکوئی دلیل شرعی نہ ہونایہی جواز کی دلیل کافی ہے۔جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ ومستدرك حاکم میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرّم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفاعنہ۔[1] |
حلال وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حلال کیا اورحرام وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حرام فرمادیااور جس کاکچھ ذکرنہ فرمایا وہ اﷲ کی طرف سے معاف ہے یعنی اس کے فعل پر کچھ مواخذہ نہیں۔ |
مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
|
فیہ ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ۔[2] |
اس حدیث سے ثابت ہواکہ اصل سب چیزوں میں مباح ہوناہے۔ |
شیخ شرح میں فرماتے ہیں:
|
وایں دلیل ست برآنکہ اصل دراشیاء اباحت است۔[3] |
یہ دلیل ہے اس بات پرکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔(ت) |
نصرکتاب الحجۃ میں امیرالمومنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
قال اﷲ عزوجل خلقکم وھو اعلم بضعفکم فبعث الیکم رسولا من انفسکم وانزل علیکم کتابا وحدلکم |
بیشك اﷲ عزوجل نے تمہیں پیداکیا اور وہ تمہاری ناتوانی جانتا تھا توتم میں تمہیں میں سے ایك رسول بھیجا، اورتم پرایك کتاب اتاری اور اس |
[1] جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۶،سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب اکل الجبن والسمن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۹،المستدرك للحاکم کتاب الاطعمہ دارالفکربیروت ۴/ ۱۱۵
[2] مرقاۃ المفاتیح کتاب الاطعمہ تحت حدیث ۴۲۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۵۷
[3] اشعۃ اللمعات کتاب الاطعمہ الفصل الثانی تحت حدیث ۴۲۲۸ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۰۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع