30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المطھرۃ زجر من انکر وتعزیرہ[1]۔ |
کہ منکرکوجھڑکے اورسزادے۔ عــــــہ۱ |
مولانا عبدالرحمن بن علوی حضرمی لکھتے ہیں:
|
استحسنو القیام تعظیمالہ اذاجاء ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وماصار تعظیمالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فوجب علینا اداؤہ والقیام بہ ولاینکر ما ذکرنا الامبتدع مخالف عن طریق اھل السنۃ و الجماعۃ لااستماع واصغاع لکلامہ وعلٰی حاکم الاسلام تعزیرہ۔[2] |
علماء نے فتوٰی وقت ذکرولادت نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضورکی تعظیم کے لئے قیام مستحسن سمجھا اوجوچیز حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ٹھہری تواس کااداکرنا اور بجالانا ہم پرواجب ہوگیا اوراس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی مخالف طریقہ اہلسنت وجماعت جس کی بات نہ سننے کے قابل نہ توجہ کے لائق، اورحاکم اسلام پر اس عــــــہ۲ کی تعزیرواجب ہے۔ |
بالجملہ سردست اس قدرکتب فتاوٰی وافعال واقوال علماء ائمہ سے اس قیام مبارك کے استحسان واستحباب کی سند صریح حاضر ہے جس میں سو۱۰۰ سے زائدائمہ وعلماء کی تحقیق وتصدیق روشن وظاہر اوررسالہ غایۃ المرام میں علمائے ہند کے فتوے چھپے ہیں پچاس۵۰ سے زیادہ مہرودستخط ہیں اب منصف انصاف کرے آیا اس قدرعلماء ۱ مکہ معظمہ و۲مدینہ منورہ و۳جدہ ۴وحدیدہ و۵روم و ۶شام و۷مصرو ۸دمیاط و۹یمن و۱۰ زبیدو۱۱بصرہ و۱۲حضرموت و۱۳حلب و۱۴حبش و۱۵برزنج و۱۶برع و۱۷کرد و۱۸داغستان و۱۹اندلس و۲۰ہند کااتفاق قابل قبول ارباب عقول نہ ہوگا، یامعاذاﷲ یہ عمائد شریعت صدہاسال سے آج تك سب کے سب مبتدع وبدمذہب، اورایك بدعت ضلالت کے مستحب و مستحسن ماننے والے ٹھہریں گے، تعصب نہ کیجئے توہم ایك تدبیربتائیں ذرا اپنے دل کو خیالات اِیں وآں سے رہائی دیجئے اور آنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے کہ گویایہ سیکڑوں اکابرسب کے سب ایك وقت میں زندہ موجودہیں اور اپنے اپنے مراتب عالیہ کے ساتھ ایك مکان عالیشان میں جمع ہوئے ہیں اوران کے حضور مسئلہ قیام پیش ہوا ہے اوران سب عمائدنے ایك زبان ہوکربلندآوازسے فرمایاہے، بیشك مستحب ہے، وہ کون ہے جواسے براکہتاہے، ذراہمارے سامنے آئے، اس وقت ان کی
عــــــہ۱:منکرواجب التعزیرہے۔ عــــــہ۲:منکرواجب التعزیرہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع