30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاحیاء الادب الخامس موافقۃ القوم فی القیام اذا قام واحد منھم فی وجد صادق غیرریاء اوتکلف اوقام باختیار من غیر وجد فلابد من الموافقۃ فذٰلك من ادب الصحبۃ ولکل قوم رسم ولابد من مخالقۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقًا فیھا حسن العشرۃ و تطییب القلب و قول القائل ان ذٰلك بدعۃ لم یکن فی الصحابۃ فلیس کل مایحکم باباحتہ منقولًا عن الصحابۃ و انما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ ماثورۃ ولم ینقل النھی عن شیئ من ھذا وکذٰلك سائرانواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب، و اصطلح علیھا جماعۃ، فالاحسن المساعدۃ الافیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل[1] انتھی کلام الامام حجۃ الاسلام باختصار المرام۔ |
امام حجۃ الاسلام غزالی رحمہ اﷲ تعالٰی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:"پانچواں ادب قوم کی موافقت کرناہے قیام میں جب کوئی ان میں سے سچے وجد میں بے نمائش وتکلف یابلاوجد اپنے اختیار سے کھڑاہوتوضرور ہے کہ سب حاضرین اس کی موافقت کریں اور کھڑھے ہو جائیں کہ یہ آداب صحبت سے ہے، اور ہرقوم کی ایك رسم ہوتی ہے اورلوگوں سے ان کی عادتوں کے موافق برتاؤکرنا لازم ہے جیساکہ حدیث میں واردہوااورخصوصًا جب ان عادتوں میں اچھابرتاؤ اوردلوں کی خوشنودی ہواورکہنے والے کایہ کہنا کہ یہ بدعت ہے صحابہ سے ثابت نہیں، تو یہ کب ہے کہ جس چیزکے جوازکاحکم دیاجائے وہ صحابہ سے منقول ہو، بری تو وہ بدعت ہے جوکسی سنت مامور بہاکاکاٹ کرے اوران باتوں سے نہی کہیں نہ آئی اورایسے ہی سب مساعدتیں جب ان کے دل خوش کرنامقصود ہو اورایك جماعت نے اس پراتفاق کرلیا ہوتوبہتریہی ہے کہ ان کی موافقت کی جائے، مگران باتوں میں جن سے ایسی صریح نہی وارد ہوئی کہ لائق تاویل بھی نہیں"۔یہاں تك امام حجۃ الاسلام غزالی کاارشادتھا کہ باختصار منقول ہوا، انتہٰی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع