30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذوروایۃ ودرایۃ فطوبٰی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ۔[1] |
بیشك نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکرولادت کے وقت قیام کرنا ان اماموں نے مستحسن سمجھا ہے جوصاحب روایۃ و درایۃ تھے توشادمانی اس کے لئے جس کی نہایت مرادومقصود نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔ |
فاضل اجل سیدی جعفر بن زین العابدین علوی مدنی نے اس کی شرح الکوکب الازہر علٰی عقد الجوہر میں اس مضمون پرتقریرفرمائی۔فقیہ محدث مولانا بن حسن دمیاطی اپنے رسالہ اثبات قیام میں فرماتے ہیں:
|
القیام عند ذکر ولادۃ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر لاشك فی استحبابہ واستحسانہ و ندبہ یحصل لفاعلہ من الثواب الاوفرو الخیر الاکبر لانہ تعظیم ای تعظیم للنبی الکریم ذی الخلق العظیم الذی اخرجنا اﷲ بہ من ظلمات الکفر الی الایمان وخلصنا اﷲ بہ من نار الجھل الی جنات المعارف والایقان فتعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیہ مسارعۃ الٰی رضاء رب العٰلمین واظھار اقوی شعائرالدین ومن یعظم شعائراﷲ فانھا من تقوی القلوب ومن یعظم حرمات اﷲ فھو خیرلہ عند ربہ۔[2] |
قرأت مولد شریف میں ذکرولادت شریف سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت حضورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کوقیام کرنا بیشك مستحب ومستحسن ہے جس کے فاعل کوثواب کثیروفضل کبیر حاصل ہوگاکہ وہ تعظیم ہے اورکیسی ہے تعظیم ان نبی کریم صاحب خُلقِ عظیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی جن کی برکت سے اﷲ سبحانہ وتعالٰی ہمیں ظلمات کفرسے نورایمان کی طرف لایا اوران کے سبب ہمیں دوزخ جہل سے بچاکر بہشت معرفت ویقین میں داخل فرمایا توحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم میں خوشنودی رب العالمین کی طرف دوڑنا ہے اورقوی ترین شعائردین کاآشکارہونا اور جوتعظیم کرے شعائرخدا کی تووہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے اورجوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہترہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع