30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ساریۃ فی العالم کلّہ ماشرحت الکتب ولاترجمت من لسان الٰی لسان ولاوضع العلماء علٰی الشروح حواشی کالشروح للشروح۔[1] |
لکھی جاتی نہ ترجمے ہوتے نہ علماء شرحوں کی شرح(حواشی) لکھتے۔ |
اب یہیں دیکھئے کہ کتب ظاہرالروایۃ ونوادرائمہ تھیں پھرکتب نوازل وواقعات تصنیف فرمائی گئیں پھرمتون وشروح وحواشی وفتاوٰی وقتًا فوقتًا تصنیف ہوتے رہے اورہرآئندہ طبقہ نے گزشتہ پراضافہ کئے اورمقبول ہوتے رہے کہ سب اسی اجمال قرآن وسنت کی تفصیل ہے۔نصاب الاحتساب وفتاوٰی عالمگیری زمانہ سلطان عالمگیراناراﷲ تعالٰی برہانہ کی تصنیف ہیں ان میں بہت ان جزئیات کی تصریح ملے گی جو کتب سابقہ میں نہیں کہ وہ جب تك واقع ہی نہ ہوئے تھے، اورکتب نوازل وواقعات کاتوموضوع ہی حوادث جدیدہ کے احکام بیان فرماناہے اگرکوئی شخص ان کی نسبت کہے کہ صحابہ تابعین سے اس کی تصریح دکھاؤ یاخاص امام اعظم وصاحبین کانص لاؤ تو وہ احمق مجنون یاگمراہ مفتون، پھرعالمگیری کے بھی بہت بعد اب قریب زمانہ کی کتابیں فتاوٰی اسعدیہ وفتاوٰی حامدیہ و طحطاوی علی مراقی الفلاح وعقودالدریہ وردالمحتار ورسائل شامی وغیرہا کتب معتمدہ ہیں کہ تمام حنفی دنیامیں ان پراعتماد ہورہاہے دو اول کے سوایہ سب تیرہویں صدی کی تصنیف ہیں مانعین بھی ان سے سندیں لاتے ہیں ان میں صدہاوہ بیان ملیں گے جوپہلے نہ تھے اورمانعین کے یہاں توفتاوٰی شاہ عبدالعزیز صاحب بلکہ مائۃ مسائل واربعین تك پراعتماد ہورہاہے کیامائۃ مسائل واربعین کے سب جزئیات کی تصریح صحابہ وتابعین وائمہ تو بہت بالاہیں عالمگیری وردالمحتار تك کہیں دکھاسکتے ہیں اب ان کے بعد بھی ریل، تار، برقی، نوٹ، منی آرڈر، فوٹوگراف وغیرہ وغیرہ ایجادہوئے اگرکوئی شخص کہے کہ صحابہ تابعین یاامام ابوحنیفہ یایہ نہ سہی ہدایہ یادرمختاریایہ بھی نہ سہی عالمگیری وطحطاوی وردالمحتار یایہ سب جانے دوشاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے فتاوے میں دکھاؤ، تواسے مجنون سے بہتر اورکیالفظ کہاجاسکتاہے، ہاں اس ہٹ دھرمی کی بات جداہے کہ اپنے آپ توتیرہویں صدی کی اربعین تك معتبرجانیں اوردوسروں سے ہرجزئیہ پرخاص صحابہ وتابعین کی سندمانگیں۔خطبہ عــــــہ میں ذکرعمین شریفین حادث ہے مگرجب سے حادث ہے علماء نے اس کے مندوب ہونے کی تصریح فرمائی،
عــــــہ: ان کابیان کہ حادث ہوکرمستحب ٹھہریں۔
[1] میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل وممایدلك علی صحۃ ارتباط جمیع اقوام علماء الشریعۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع