30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان کنتم لاتعلمون۔[1] |
واجب کہا کہ قرآن عظیم میں اس کا حکم فرمایا ہے کہ علماء سے پوچھو اگرتمہیں نہ معلوم ہو۔ |
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں:
|
مافصّل عالم مااجمل فی کلام من قبلہ من الادوار الا للنور المتصل من الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فالمنۃ فی ذٰلك حقیقۃ لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الذی ھو صاحب الشرع لانہ ھوالذی اعطی العلماء تلك المادۃ التی فصلوا بھاما اجمل فی کلامہ کما ان المنۃ بعدہ لکل دورعلٰی من تحتہ فلوقدر ان اھل دور تعدوا من فوقھم الی الدورالذی قبلہ لانقطعت وصلتھم بالشارع ولم یھتدوا لایضاح مشکل ولا تفصیل مجمل، وتامل یااخی لولاان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصل بشریعتہ مااجمل فی القراٰن لبقی القراٰن علٰی اجمالہ کما ان الائمۃ المجتھدین لولم یفصلوا ما اجمل فی السنۃ لبقیت السنۃ علٰی اجمالھا وھکذا الٰی عصرناھذا، فلو لاان حقیقۃ الاجمال |
جس کسی عالم نے اپنے سے پہلے زمانے کے کسی کلام کے اجمال کی تفصیل کی ہے وہ اسی نور سے ہے جوصاحب شریعت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اسےملا تو حقیقت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہی کاتمام امت پراحسان ہے انہوں نے علماء کویہ استعداد عطافرمائی جس سے انہوں نے مجمل کلام کی تفصیل کی۔یونہی ہرطبقہ ائمہ کااپنے بعد والوں پراحسان ہے اگرفرض کیاجائے کہ کوئی طبقہ اپنے اگلے پیشواؤں کوچھوڑکر ان سے اوپر والوں کی طرف تجاوز کرجائے توشارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جوسلسلہ ان تك ملاہواہے وہ کٹ جائے گا اوریہ کسی مشکل کی توضیح مجمل کی تفسیرپرقادرنہ ہوں گے۔برادرم! غورکر، اگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی شریعت سے مجملات قرآن عظیم کی تفصیل نہ فرماتے قرآن عظیم یونہی مجمل رہ جاتا۔اسی طرح ائمہ مجتہدین اگر مجملات حدیث کی تفصیل نہ فرماتے حدیث یونہی مجمل رہ جاتی، اسی طرح ہمارے زمانے تک، تواگریہ نہیں کہ حقیقت اجمال سب میں سرایت کئے ہوئے ہے تونہ متون کی شرح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع