30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾" عــــــہ[1] |
نہ معلوم ہو۔ |
مصنف نے یہاں معالم التنزیل کے حاشیہ پرتحریرفرمایا:
|
اقول: ھذا من محاسن نظم القراٰن العظیم امر الناس ان یسئلوا اھل العلم بالقراٰن العظیم وارشد العلماء ان لایعتمدواعلی اذھانھم فی فھم القراٰن بل یرجعوا الی مابیّن لھم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم فردالناس الی العلماء والعلماء الی الحدیث و الحدیث الی القراٰن وان الی ربك المنتھٰی فکما ان المجتھدین لوترکوا الحدیث ورجعوا الی القراٰن فضلواکذٰلك العامۃ لوترکواالمجتھدین ورجعوا الی الحدیث فضلوا ولھذا قال الامام سفٰین بن عیینۃ احد ائمۃ الحدیث قریب زمن الامام الاعظم و الامام المالك رضی اﷲ تعالٰی عنھم الحدیث مضلۃ الاالفقھاء نقلہ عنھم الامام ابن الحاج مکی فی مدخل۔[2] |
میں کہتاہوں کہ یہ عبارت قرآن عظیم کی خوبیوں سے ہے لوگوں کوحکم دیا کہ علماء سے پوچھو جوقرآن مجید کا علم رکھتے اور علماء کوہدایت فرمائی کہ قرآن کے سمجھنے میں اپنے ذہن پر اعتماد نہ کریں بلکہ جوکچھ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بیان فرمایااس کی طرف رجوع لائیں تولوگوں کوعلماء کی طرف پھیرا اور علماء کوحدیث کی طرف اورحدیث کو قرآن کی طرف اوربیشك تیرے رب ہی کی طرف انتہاء ہے توجس طرح مجتہدین اگرحدیث چھوڑدیتے اورقرآن کی طرف رجوع کرتے بہك جاتے یونہی غیرمجتہد اگرمجتہدین کوچھوڑکر حدیث کی طرف رجوع لائیں توضرور گمراہ ہوجائیں، اسی لئے امام سفیان بن عیینہ نے کہاکہ امام اعظم وامام مالك کے زمانہ کے قریب حدیث کے اماموں سے تھے فرمایا کہ حدیث بہت گمراہ کردینے والی ہے مگر فقہاء کو، اسے امام ابن حاج مکی نے مدخل میں نقل فرمایا ۱۲مصحح غفرلہ(ت) |
|
عــــــہ: اس آیہ کریمہ کے متصل ہی کریمہ ثانیہ ہے: "بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکْرَ"[3]الاٰیۃ۔ |
روشن دلیلیں اورکتابیں لے کر اوراے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع