30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذبح الکبش یوم القٰیمۃ[1]، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حیات کوپیداکیا، اورقیامت کے دن مینڈھے کوذبح کرنے والی حدیث کی وجہ سے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۲۶۰:ازمیرٹھ چماردروازہ لنگڑی مسجد مکان جناب قاری مولوی محمداسحاق صاحب مسئولہ محمدیعقوب صاحب ۳شعبان ۱۳۳۱ھ
آیت "فَلَمَّاۤ اَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ"[2] (جب ان کورجفہ نے پکڑا۔ت)میں ایك شخص رجفہ کے معنی"کڑکڑانے"کے کہتاہے، اورایك شخص کہتاہے کڑکڑانے کے معنی نہیں ہیں بلکہ رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں جلالین شریف میں اوردیگرتفاسیر میں اورلغت کی کتابوں میں رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں کڑکڑانے کے نہیں ہوسکتے۔۔وہ شخص پہلایہ کہتاہے کہ درایت اس کوچاہتی ہے کہ رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہوں اوریہی ہیں کیونکہ ان کاکڑکڑانا عذاب کاسبب ہواتھا اس واسطے رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہیں۔اب عرض یہ ہے کہ پہلے کاقول صحیح ہے جورجفہ کے معنی کڑکڑانے کے کرتاہے یاثانی کاجواب کہ معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے؟ اور پہلاشخص من فسر برائہ[3] (جس نے اپنی رائے سے تفسیرکی۔ت)کامصداق ہوسکتاہے یانہیں؟ اوررجفہ کے معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے؟ اہلسنت وجماعت کے موافق جائزہے یانہیں؟
الجواب:
رجفہ کے معنی یہ کڑکڑانا محض باطل وبے اصل ہے جس پرنہ لغت شاہدنہ تفسیر، تویہ ضرور تفسیربالرائے ہے اور اس کاحصرکرنا کہ یہی ہیں حضرت عزت پرافتراء اوراس کااستدلال کہ وہ سبب استدلال آیت میں دوسری تحویل اورلفظ کوحقیقت سے مجاز کی طرف تبدیل ہے کہ اخذعذاب حقیقت ہے اور سبب کی طرف اسناد مجاز یابحذف مضاف تقدیر وبال کی جائے، بہرحال محض بلا وجہ بلکہ بلامجال وحی عدول بہ مجاز ہے کہ باطل ونامجازہے۔اسی قصہ میں دوسری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع