30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۵۹: ازملك بنگال ضلع فریدپور موضع پٹورا کاندے مرسلہ شمس الدین صاحب
قرآن پاك میں "ثُمَّ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحْیٰی ﴿ؕ۱۳﴾"[1] (نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے۔ت)اہل نار کی حالت لکھی ہے حالانکہ انسان کوحیات یاممات کاہونا ضروری ہے، پس بعد اثبات وجود کے ارتفاع نقیضین کیونکر جائزہوسکتاہے؟
الجواب:
قرآن عظیم محاورہ عرب پراُتراہے،
|
قال اﷲ تعالٰی"فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّکُمْ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾"[2] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:توآسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشك یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جوتم بولتے ہو۔(ت) |
اورعرب بلکہ تمام عرب وعجم کامحاورہ ہے کہ ایسی کرب شدید ومصیبت مدید کی زندگی کویوں ہی کہتے ہیں کہ نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں، لاحیی فیرجی ولامیت فیرثی(نہ زندہ ہے کہ امیدرکھی جائے اورنہ مردہ ہے کہ مرثیہ کہا جائے۔ت)اس کابیان دوسری آیت کریمہ میں ہے کہ:
|
"یَاۡتِیۡہِ الْمَوْتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ"[3] |
اسے ہرطرف سے موت آئے گی اورمرے گانہیں۔ |
یاتیہ الموت من کل مکان یہ"لایحٰیی"اور ماھو بمیت یہ"لایموت فیھا"ہوا، اورموت وحیات نقیضین نہیں کہ انسان نہ موت ہے نہ حیات، بلکہ ان میں تقابل تضادہے اگرموت وجودی ہے اورعدم ومبلکہ اگرعدمی۔
|
والاول ھو الصحیح عندی الظاھر قولہ تعالٰی "خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ"[4] والحدیث |
اوراول ہی میرے نزدیك صحیح ہے اﷲ تعالٰی کے ظاہرفرمان کی وجہ سے کہ اس نے موت اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع