30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ششم: علم کااقصٰی غایات کمالات پرہونا کہ معلوم کی ذات ذاتیات اعراض احوال لازمہ مفارقہ ذاتیہ اضافیہ ماضیہ آیۃ موجودہ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پرمخفی نہ ہوسکے۔
ان چھ وجہ پرمطلق علم حضرت احدیت جل وعلا سے خاص اوراس کے غیر سے قطعًا مطلقًا منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کاایساعلم جوان چھ وجوہ سے ایك وجہ بھی رکھتاہو حاصل ہونا ممکن نہیں جوکسی غیرالٰہی کے لئے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایك ذرے کاایساعلم ثابت کرے یقینا اجماعًا کافرمشرك ہے۔ان تمام وجوہ کی طرف آیات کریمہ میں باطلاق کلمہ یعلم اشارہ فرمایاکہ یہاں علم کومطلق رکھااور مطلق فردکامل کی طرف منصرف اورعلم کامل بلکہ علم حقیقی حق الحقیقہ وہی ہے جوان وجوہ ستہ کاجامع ہو اسی لحاظ پرہے وہ جو قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
|
" یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَاذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕ قَالُوۡا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ"[1] |
جس دن اﷲ عزوجل رسولوں کوجمع کرکے فرمائے گا تمہیں کیاجواب ملاعرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔ |
کفارکے پاس ان محبوبان خداصلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم کاتشریف لاناہدایت فرمانا ان ملاعنہ کاتکذیب وانکار واصرارو استکبار وبیہودہ گفتار سے پیش آنا کسے نہیں معلوم مگرحضرات انبیاء عرض کریں گے لاعلم لنا ہمیں اصلًا علم نہیں،لانفی جنس کا ہے سلب مطلق فرمائیں گے یعنی وہی علم کامل کہ بحقیقت حقیقہ علم اسی کانام ہے اصلًا اس کاکوئی فرد ہمیں حاصل نہیں،حق حقیقت تو یہ ہے جب اس سے تجاوز کرکے حقیقت عرفیہ یعنی مطلق دانستن کی طرف چلئے خواہ بالذات ہو یابغیر ہو غنی ہو یامحتاج سرمدی ہو یاحادث ابدی ہو یافانی واجب ہو یاممکن ثابت ہویامتغیر تام ہو یاناقص بالکنہ ہو یابالوجہ بایں معنی مطلق علم کہ ایك آدھ چیزکے جاننے سے بھی صادق زنہار مختص بحضرت عزت عزت عظمتہ نہیں،نہ معاذاﷲ قرآن عظیم نے ہرگز کہیں اس کادعوٰی کیابلکہ جس طرح معنی اول کاغیرکے لئے اثبات کفرہے اس معنے کی غیرسے نفی مطلق بھی کفرہے کہ یہ خود صدہا نصوص قرآن عظیم بلکہ تمام قرآن عظیم بلکہ تمام ملل وشرائع وعقل ونقل وحس سب کی تکذیب ہوگی قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں کے لئے بے شمار علوم عظیمہ عطافرمائے اوران کے عطاسے منت رکھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع