30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معہذا انبیاء علیہم السلام میں احتیاط یہ ہے کہ:
|
اٰمنّا بانبیاء اﷲ جمیعا لانفرق بین احد من رسلہ۔ |
ہم تمام انبیاء پرایمان لائے ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے۔ |
کہ بعض پرایمان لائیں اورمعاذاﷲ بعض پر نہیں،جیساکہ یہودونصارٰی خذلہم اﷲ تعالٰی نے کیا۔اوربالیقین کسی کونبی ماننے کے لئے تواترشرط ہے،یہاں احاد کافی نہیں لما تقرران الاحاد لاتفید الاعتماد فی مثل الاعتقاد واﷲ الھادی الٰی سبیل الرشاد(کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اخبار احاد اعتقادیات جیسے امورمیں اعتماد کافائدہ نہیں دیتیں اوراﷲ تعالٰی ہی راہ ہدایت عطا فرمانے والاہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۶: مسئولہ سید شرف حسین صاحب ہیڈمحررسلطان پورضلع سہارن پور ۲۸محرم ۱۳۳۲ھ
مطلع فرمائیے کہ "اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ ۚ "[1] (اوران کاحکم مانوجوتم میں حکومت والے ہیں۔ت)کی بابت رشیداحمدصاحب "علماء وفقہاء" تجویزفرماتے ہیں اوربعض علماء نے "بادشاہ اسلام" مرادلیاہے۔لہٰذا آپ اپنی رائے بابت "اولی الامر"کے تجویز فرمائیے کہ کون ہیں جن کی اطاعت قرین اطاعت جناب رسول مقبول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہے اورنیز یہ بھی تحریر فرمائیے کہ جس نے امام وقت کونہ پہچانا اس کی موت جاہلیت پرہوگی،اس کاکیامطلب ہے؟ اوریہ بھی تحریرفرمائیے کہ جس وقت یزید ملعون تخت نشین تھا آیا وہ بھی" اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ ۚ " میں شامل ہے یانہیں؟اگرنہیں ہے تواس وقت کون "اولی الامر" تھا۔مفصل ومشرح "اولی الامر" کے معنی اس وقت سے اس وقت تك کے تحریرفرمائیے۔
الجواب:
"اولی الامر"میں اصح القول یہی ہے کہ اس سے مراد علمائے دین ہیں کما نص علیہ الزرقانی وغیرہ(جیساکہ ا س پرزرقانی وغیرہ نے نص فرمائی ہے۔ت)نہ کہ سلاطین جن کے بہت احکام خلاف شرع ہوتے ہیں۔یزیدپلید کے وقت میں بکثرت صحابہ کرام وتابعین اعلام تھے وہی "اولی الامر" تھے نہ کہ یزیدعلیہ مایستحقہ۔ہررسالت کے زمانہ میں وہ رسول اوراس کی کتاب امام ہوتی ہے قال تعالٰی " کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحْمَۃً ؕ"[2] (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:موسٰی علیہ السلام کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع