30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکاح اقدس سے مشرف ہوں گی۔ان کی شان کریم:
|
"وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَکُ بَغِیًّا ﴿۲۰﴾"[1] |
نہ مجھے کسی نے ہاتھ لگایا اورنہ میں بدکارہوں۔ |
ظاہرہے کہ بعد ولادت بھی صادق ہے،اوریہی معنی بکریت ہے،رہابکارت بمعنی پردہ عروق کازوال،اولا اس ولادت معجزہ میں ہونا کیاضرور اور اس کاکہاں ثبوت۔جوبے باپ کے پیداکرسکتاہے بے زوال بکارت ولادت دینے پربھی قادرہے۔بکرکے لئے بھی منفذہوتا ہے جس سے خون آتا ہے،اوربالفرض اس کازوال ہوبھی تووہ منافی بکریت نہیں۔بہت ابکارکا یہ پردہ کسی صدمہ یاخون حیض کی حدت وغیرہ سے جاتارہتاہے،مگروہ بکرسے ثیب،نارسیدہ سے شوہردیدہ نہیں ہوجاتیں بلکہ حقیقۃً بھی بکرہوتی ہیں،اورحکم شرع میں بھی بکرہی رہتی ہیں۔ان کانکاح ابکار کی طرح ہوتاہے اور وہ ابکارکے لئے وصیت میں داخل ہوتی ہیں۔
تنویرالابصار میں ہے:
|
من زالت بکارتھا بوثبۃ اودرورحیض اوجراحۃ اوکبر بکرحقیقۃ[2]۔ |
جس کاپردہ بکارت کودنے،حیض آنے یا زخم یازیادتی عمری کی وجہ سے زائل ہوا وہ عورت حقیقۃً باکرہ ہے۔ |
فتاوٰی ظہیریہ اور ردالمحتارمیں ہے:
|
البکراسم لامرأۃ لم تجامع بنکاح ولاغیرہ[3]۔ |
باکرہ اس عورت کوکہتے ہیں جس سے بہ نکاح یابلانکاح صحبت نہ کی گئی ہو۔ |
بحروشامی میں ہے:
|
حاصل کلامھم ان الزائل فی ھذاالمسائل العذرۃ ای الجلدۃ التی علی المحل لاالبکارۃ فکانت بکرا حقیقۃ وحکما ولذا تدخل فی الوصیۃ لابکار |
ان کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ ان مسائل میں عذرۃ زائل ہوئی ہے یعنی وہ جھلی جوشرمگاہ میں ہوتی ہے،توعورت ان صورتوں میں حقیقۃً اورحکمًا ہرطرح باکرہ ہوتی ہے۔اس لئے اگرکسی نے بنی فلاں کی باکرہ عورتوں کے لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع