30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے استعارہ کرکے ایسے غضب پر اس کااطلاق ہوتاہے جسے آدمی کسی خوف یالحاظ سے ظاہرنہ کرسکے،گویادل کاجوش گلے میں پھنس کررہ گیا۔عوام کہ دقائق کلام سے آگاہ نہیں،فرق نہ کریں۔مگراصل حقیقت یہی ہے کہ علماء پر اس کالحاظ لازم ہے۔ترجمہ یوں ہوا:"نہ ان کی جن پرتونے غضب فرمایا،یاجن پرتیراغضب ہے،یاجن پرغضب ہوا،یاجوغضب میں ہیں" خیال کرنے سے ان کے ترجمہ میں اس کی بہت سی نظائر معلوم ہوسکتی ہیں۔
(۴)سب سے اہم واعظم واقدم والزم مراعات ومتشابہات کہ ان میں ہمارے ائمہ کرام سے دومذہب ہیں:
اول ہم نصوص پرایمان لائے،نہ تاویل کریں نہ اپنی رائے کودخل دیں،"اٰمَنَّا بِہٖۙ کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَاۚ"[1] (ہم اس پرایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)معنی ہمیں معلوم ہی نہیں،ان سے اگر قولہ تعالٰی ثم "ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ"[2] کا ترجمہ کرائیے تو وہ فرمائیں گے:"پھراستواء فرمایا آسمان کی طرف" اگرپوچھئے استوٰی کے کیامعنی،تو لاندری(ہم نہیں جانتے۔ت)سے جواب ملے گا۔
دوم تاویل کہ متاخرین نے تفہیم جہال کے لئے اختیارکیاکہ کسی خوبصورت معنی کی طرف پھیردیں جس کاظاہرشان عزت پر محال نہ ہو۔اورطرف تجویز وتجارب میں لفظ کریم سے قرب بھی رکھتاہو۔ان سے اگرآیہ کریمہ مذکورہ کاترجمہ کرائیے تووہ کہیں گے:"پھرآسمان کی طرف قصدفرمایا" مگریہ کہ تفویض چھوڑیں اور تاویل بھی نہ کریں بلکہ معنی محال وظاہرکاصریح ادا کرنے والا لفظ قائم کردیں جیسے کریمہ مذکورہ کاترجمہ "پھرچڑھ گیاآسمان کو" کہ چڑھنا اوراُترنا شان عزت پرمحال قطعی اور جہال کے لئے معاذاﷲ موہم بلکہ مصرح بہ جمسانیت ہے۔یہ ہمارے ائمہ متقدمین کادین نہ متاخرین کامسلک۔اس سے احتراز فرض قطعی ہے۔فقیرنے جہاں تك دیکھا ترجمہ منسوبہ بحضرت قدسی منزلت سیدنامصلح الدین سعدی قدس سرہ العزیز اس عیب مشابہ سے پاك ومنزہ ہے،ان میں اس سے مدد لی جائے،وباﷲ التوفیق۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع