30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:یہ حدیث ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ جس میں بجائے ابن ابی حاطب،ابن حاطب کہا۔ابن جریر وبغوی وثعلبی وابن السکن وابن شاہین وباوردی سب کے یہاں بطریق معاذابن رفافہ عن علی بن یزید عن القاسم عن ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے،اورعلی بن یزید میں کلام معلوم ہے۔حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا:ضعیف[1]۔امام دارقطنی نے فرمایا:متروک[2] امام بخاری نے فرمایا:منکرالحدیث[3]۔اورفرمایا:
|
کل من اقول:فیہ منکرالحدیث لاتحل الروایۃ عنہ[4] و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جسے میں منکرالحدیث کہوں اس سے روایت حلال نہیں۔ (ت) |
مسئلہ ۲۵۱:(سوال مذکورنہیں)۲۸صفر۱۳۳۸ھ
الجواب:
(بجواب مسئلہ مولوی حکیم غلام محی الدین صاحب لاہوری)
فقیر کی رائے قاصریہ ہے کہ مولاناشاہ عبدالقادرصاحب کاترجمہ پیش نظررکھاجائے اور اس میں چارتبدیلیں محفوظ رہیں:
(۱)وہ الفاظ کہ متروك یانامانوس ہوگئے،فصیح وسلیس ورائج الفاظ سے بدل دئیے جائیں۔
(۲)مطلب اصح جس کے مطالعہ کوجلالین کہ اصح الاقوال پراقتصار کاجن کوالتزام ہے سردست بس ہے،ہاتھ سے نہ جائے۔
(۳)اصل معنی لفظ اورمحاورات عرفیہ دونوں کے لحاظ سے ہرمقام پراس کے کمال پاس رہے،مثلًا "غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ"[5] کا یہ ترجمہ کہ جن پرغصہ ہوایاتونے غصہ کیا،فقیرکوسخت ناگوارہے۔غصہ کے اصل معنی اُچھّوکے ہیں یعنی کھانے کاگلے میں پھنسنا،جیسے "وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ"[6] فرمایا۔
[1] تقریب التہـذیب ترجمہ علی بن یزید ۴۸۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۷۰
[2] میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱
[3] میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱
[4] میزان الاعتدال ترجمہ ابان بن حبلہ ۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱/
[5] القرآن الکریم ۱/ ۷
[6] القرآن الکریم ۷۳/ ۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع