30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واٰذربیجان مع اھل العراق فافزع حذیفۃ اختلافھم فی القرأۃ فقال حذیفۃ لعثمان یاامیر المؤمنین ادرك ھذہ الامّۃ قبل ان یختلفوا فی الکتاب اختلاف الیھود والنصارٰی فارسل عثمٰن الی حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان ارسلی الینا بالصحف ننسخھا فی المصاحف ثم نردّھا الیك فارسلت بھا حفصۃ الٰی عثمٰن فامر زید بن ثابت وعبداﷲ بن زبیربن وسعید بن العاص وعبد الرحمٰن بن الحارث بن ھشام فنسخوھا فی المصاحف و قال عثمٰن للرھط القرشیین الثلثۃ اذا اختلفتم انتم وزید بن ثابت فی شیئ من القراٰن فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانھم ففعلوا حتّٰی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف رد عثمٰن الصحف الٰی حفصۃ و ارسل الٰی کل افق بمصحف ممّا نسخوا وامر بماسواہ من القراٰن فی کل صحیفۃ او مصحف ان یحرق[1]۔ |
سیدنا حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ اہل شام اوراہل عراق کوآرمینیہ اورآذربیجان کے ساتھ جنگ کرنے اور ان کوفتح کرنے کے لئے لشکرتیار کررہے تھے، حذیفہ کو اہل شام اوراہل عراق کے قرآن پڑھنے کے اختلاف نے گھبراہٹ میں ڈال دیاتو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہا اے امیرالمومنین! اس امت کو یہود ونصارٰی کی طرح کتاب اﷲ میں اختلاف کرنے سے روکیں،حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کسی کو ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس بھیجاکہ وہ صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم ان کومصحف میں لکھ کرپھر آپ کو واپس کردیں گے۔ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہانے صحیفے امیرالمومنین کے پاس بھیج دئیے توانہوں نے زیدبن ثابت،عبداﷲ بن زبیر،سعیدبن عاص اور عبد الرحمن بن حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کوحکم دیا، انہوں نے اس کو مصاحف میں لکھ دیا۔حضرت عثمان غنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع