30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھے جاتے ہیں وبس۔خلل ایام کسی کتاب کانام بھی سننے میں نہ آیا،نہ کشف الظنون میں کوئی کتاب اس نام کی لکھی شاید حال کے کسی شخص کی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۸: ازضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
بارہ امام جن کے نام عوام میں مشہورہیں ان میں باستثنائے جناب امام علی مرتضٰی کرم اﷲ وجہہ حضرت امام حسن وحضرت امام حسین وحضرت امام مہدی کے کسی اورامام کی نسبت صحیح حدیثوں میں اشارۃً یاصراحۃً کوئی خبرآئی ہے؟ امامت ان کی ولایت کے درجے پرمانناچاہئے ان کے عقائد واحکام واعمال وغیرہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایك کے مشابہ تھے یاسب سے الگ؟ یہ خود مجتہدتھے یامقلد؟ بعض اعمال وجفروغیرہ کی کتابوں میں ان کے اقوال ملتے ہیں یہ کہاں تك صحیح ہیں؟ بعض کا یہ اعتراض ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ان کی روایتیں بہت کم لی گئی ہیں حالانکہ ان کاخاندانی علم تھا ان سے زیادہ دوسرے کوکہاں تك واقفیت ہوسکتی ہے اہلسنّت کی کتابوں میں ان کے حالات کم لکھنے کی کیا وجہ ہے؟
الجواب:
امام باقررضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بشارت بتصریح نام گرامی صحیح حدیث میں ہے جابربن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کاذکر فرمایاکہ ان سے ہماراسلام کہنا۔سیدنا امام محمدباقررضی اﷲ تعالٰی عنہ طلب علم کے لئے سیدناجابررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان کی غایت تکریم کی اورکہا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسلّم علیک[1]رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کوسلام فرماتے ہیں،اور اخرج منکما الکثیر الطیب[2] (اﷲ تعالٰی تم دونوں کوکثیرپاکیزہ اولاد عطافرمائے)میں ان سب حضرات کی بشارت ہے۔امامت اگربمعنی مقتدٰی فی الدین ہونے کے ہے توبلاشبہہ ان کے غلام اورغلاموں کے غلام مقتدٰی فی الدین ہیں،اوراگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہرغو ث کے دووزیرہوتے ہیں عبدالملك و عبدالرب،انہیں امامین کہتے ہیں،توبلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے۔اوراگرامامت بمعنی خلافت عامہ مرادہے تووہ ان میں صرف امیرالمومنین مولٰی علٰی وسیدناامام حسن مجتبٰی کوملی اوراب سیدنا امام مہدی کوملے گی وبس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین،باقی جومنصب امامت ولایت سے بڑھ کرہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع